گلگت (نمائندہ خصوصی) گلگت بلتستان میں یوں تو ہر محکمہ میں کرپشن اور اقربا پروری اپنے عروج پر ہے لیکن محکمہ تعلیم جس سے قوم کا مستقبل وابستہ ہے اس میں بھی میرٹ کی پامالی کرتے ہوءے اپنوں کو نوازنے کی کہانیاں زبان زد عام ہورہی ہیں۔ اسکی ایک مثال حال ہی میں ہونے والے پروموشنز ہیں جن میں سینیر ٹیچرز کو نظرانداز کرتے ہوٴے جونٴیر اور نااہل لوگوں کو آگے کر دیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ زاتی عناد کی بنا پر کئی ٹیچرز کا ٹرانسفر دوسرے اضلاع کے دوردراز اور سرحدی علاقوں میں کردیا گیا ہے۔ گلگت کے تین سینیر ٹیچرز کا گلگت بلتستان سے ہی ٹرانسفر کردیا گیا ہے۔ باوثوق زرایع اس سب کا زمہ دار سابقہ سیکریٹری تعلیم ثناء اللہ کو قرار دے رہے ہیں جو کہ محکمہ تعلیم کا ان داتا بنا ہوا تھا ۔ موصوف نے ٹویٹ کے پراجیکٹ میں بھی من مانی بھرتیاں کی تھیں اور بغیر رزلٹ بتاے امیدواران کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ ہم یوتھ آف گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس صاحب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ محمکہ تعلیم میں سابقہ سیکریٹری کے کالے کارناموں پر فی الفور نوٹس لے اور حقدار کو اسکا حق پہنچادے اور اقرباپروری اور کرپشن میں ملوث لوگوں کو قرار واقعی سزا دے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا