سکردو(نامہ نگار) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واپڈا پاور ہاوس ون سکردو اور واپڈا پاور ہاوس ٹو دونوں کا مشینوں کا دس سالوں سے ریپرینگ نہیں ہوا اور دونوں پاور ہاوس کا مشینوں کا انسٹال کرنے والے ملٹی نیشنل کمپنی سی ایم ائی سی کے سی ایم مسٹر لیو ڑو نے واپڈا اور محکمہ برقیات گلگت بلتستان سے کہا تھا کہ اس دونوں پاور ہاوس کا دس سالوں سے ریپرینگ نہیں ہوا ہے اور پرانی اور بار بار خراب ہونے والے پارٹس کو تبدیل کرکے نیا پارٹس لگانے کی ضرورت ہے اور دونوں پاور ہاوس کے اوپر اٹھ کروڑ روپے کی لاگت ہے اس طرح دونوں پاور ہاوس پھر سے نیا بن جائے گا اور ہماری کمپنی دوبارہ پاور ہاوس کا مرمت کا کام کرنے کو تیار ہے مگر واپڈا اور محکمہ برقیات کی کھینچا تانی کی وجہ معاملہ گزشتہ جون سے اپ تک لٹکا ہوا ہے اور مشینوں کا مرمت کا لاگت کا تخمینہ واپڈا حکام نے خود لگایا تھا اور دونوں پاور ہاوس اپ پرانی اور مشینوں کا مکمل ریپرینگ نہ ہونے کی وجہ آے روذ فنی خرابی پیدا ہونے کی وجہ سے سکردو کے عوام کو سخت پریشانی اور چوبیس چوبیس گھنٹوں کا لوڈشیڈنگ نے عوام کو زہنی اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا