اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے، تاخیر نہیں ہوگی، ملک میں کسی مارشل لاء کی گنجائش نہیں، میرے ہوتے ہوئے آئین سے ہٹ کر کوئی کام نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا جوڈیشل مارشل لا ایک لفظی سوچ ہے، کچھ لوگ اس طرح کی بدگمانی پھیلا رہے ہیں، پلان کے مطابق افواہیں اڑائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا اگر ایسا کچھ ہوا تو گھر چلے جائیں گے، ملک میں صرف جمہوریت اور آئین کی پاسداری ہوگی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا عاصمہ جہانگیر دلیر خاتون تھیں، انہوں نے ایک بار گلہ کیا کہ ریلیف نہیں دیتے، وہ بہن کے طور پر مجھے مشورے بھی دیتی تھیں۔ انہوں نے کہا عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ حق سچ کی آواز پر لبیک کہا، وہ رضاکارانہ کیس لڑتی تھیں۔
کیا ملک میں مارشل لاء کے امکانات ہیں؟ چیف جسٹس نے واضح کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا