گلگت(چیف رپورٹر) کھلے عام گلگت بلتستان کے دارالخلافہ گلگت شہر میں کھلے عام اسلحے کے زور پر خاتون کو اغوا کرکے سیکورٹی کے قلعی کھول دی گئی ۔بہترین سیکورٹی کے دعوے کرنے والے اعلی حکام کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔یہ بات پی پی پی گلگت بلتستان کے رہنماء محمد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا انھوں نے کہا کہ ایک درجن سے زائد افراد کھلے عام گلگت شہر کے سڑکوں پر سلطان راہی کی طرح فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلا کر ایک خاتون کو اغوا کرتے ہیں جبکہ سیکورٹی ادارے ان کو دو گھنٹے تک ڈھونڈ نہیں سکے این ایل ائی مارکیٹ سے سکارکوئی تک کھلے عام اسلحہ کی نمائش کرکے ماں اور بیٹی کو اغوا کرنا سیکورٹی اداروں اور حکومت پر سوالیہ نشان ہے اگر یہی سیکورٹی ہے تو پھر گلگت کا اللہ ہی حافظ ہے۔جب عوامی حقوق کے لئے کوئی احتجاج کرتا ہے تو ان کے خلاف اے ٹی اے لگتا ہے جبکہ ایسے واقعات کرنے والوں پر اے ٹی نہ لگنا بھی سوالیہ نشان ہے اس حوالے سے وزیر اعلی اور اس کی ٹیم کی کاموشی معنی خیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی اور حکومت کے دعوے کہ گلگت شہر میں فول پروف سیکورٹی دی گئی ہے اس بیان کی قلعی کھول دی ہے انھوں نے کہا کہ ائی جی پی گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری فوری طور پر نوٹس لے اور اس طرح کھلے عام دہشت گردی پھیلانے والے دہشت گردوں کو پکٹر کر قرار واقعی سزا دے اور متعلقہ خاتون کو انصاف دلایا جائے۔ورنہ ائندہ ہر کوئی اس طرح کھلے عام لوگوں کو اغوا کرنے کی روش گلگت میں بھی شروع ہو جائے گی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا