شگر( نامہ نگار) محکمہ برقیات شگر طلبا ء کے مستقبل سے کھیلنے پر تل گئے ،امتحانات شروع ہوتے ہی لوڈ شیڈنگ شروع ، بجلی کی آنکھ مچولی سے طلباء کی تیاری شدید متاثر ہونے لگا ،تفصیلات کے مطابق اس وقت قراقرم بورڈ اور فیڈرل بورڈ کے تحت گلگت بلتستان میں نویں دسویں کے امتحانات جاری ہے اس دوران محکمہ برقیات شگر نے پانی کی کمی کا بہانہ بناکر لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس کے باعث طلباء کو امتحان کی تیاری میں شدید مشکات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ برقیات شگر نے ایک انوکھ طریقہ ایجاد کیا ہے جس کے تحت پانی کم ہونے پر زون ٹو کی بجلی بند کردی جاتی ہے جبکہ زون ون کو بجلی کی ترسیل کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے جس کے باعث پانی اسٹاک ہونا محال ہوجاتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کم ہونے کی صورت میں پاور ہاوس کو ایک آدھ گھنٹے کے لئے بند کردیا جائے تو لوڈ شیڈنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے لیکن محکمہ برقیات ایساکرنے پر تیار نہیں جس کے باعث چھورکاہ اور گرد نواح میں بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے لوڈ شیڈنگ کے باعث طلباء کی تیاری شدید متاثر ہورہی ہے طلبا کا کہناہے کہ محکمہ برقیات نے عین اس وقت لوڈ شیڈنگ شروع کردی ہے جب ہمارے امتحانات شروع ہوگئے ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں تیاری میں شدید مشکلات پیش آرہی ہے انہوں نے محکمہ برقیات شگر کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مستقبل کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے دوران پیپر لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں تاکہ ہماری مشکلات کم ہوسکیں ۔
ضلع شگر میں بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی سے طلباء کیلئے امتحان کی تیاریاں شدید متاثر۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا