گلگت(پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ نے کہا ہے نواز شریف گورباچوف ثابت ہو رہے تھے 28 جولائی کا فیصلہ ملکی بقا کا ضامن بنا۔ جے آئی ٹی کے فیصلے پر مھٹائی بانٹے والے عدلیہ کے فیصلے پر رو رہے ہیں ۔نواز شریف اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ایک سکے کے دو رخ ہیں ایک نے لندن سے ملک کے خلاف سازشیں کیں دوسرے نے گھر کا بھیدی بن کر لنکا ڈھانے کی کوشش کی۔نواز شریف تمام اداروں کو ربڑ سٹیمپ بنا کر اپنی باشاہت قائم کرنا چاہتے تھے کیونکہ انکے سیاسی جینز میں ضیاءالحق کی فطرت شامل ہے جس نے اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا خمیازہ قوم آج تک بھگت رہی ہے۔نواز شریف نے اتفاق فونڈری کی ترقی کے لئے سٹیل ملز کو دیوالیہ کیا اور شاہد خاقان عباسی نے اپنی ایئرلائن کی خاطر پی آئی اے کو تباہ کیا ان دونوں وزرائے اعظم کے ذاتی کاروبار کی ترقی کو حفیظ الرحمن ملکی ترقی قرار دے کر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے میر جعفر ہیں۔انکی مہلک سوچ گلگت بلتستان کی آزادی کے شہداء کے فلسفے سے غداری کے مترادف ہے۔عدلیہ اور ملکی سلامتی کے اداروں پر غیر منطقی تنقید سے حفیظ الرحمان کے مذموم عزائم کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ حفیظ الرحمان نوازشریف کی نااہلی کا ملبہ سکیورٹی اداروں اور عدلیہ پر ڈال کر سی پیک کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔حفیظ الرحمان کی جانب سے مخصوص مائینڈ سیٹ کی باتیں گلگت بلتستان کے عوام کے دلوں میں زہر بونے کی کوشش ہے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد سے وزیر اعلیٰ کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک دشمن طاقتوں کی زبان بول رہے ہیں ۔سیاسی جماعتوں کی مظبوطی کی بات کرنے والے کی اپنی جماعت کا وجود غیر سیاسی ہے۔ حفیظ الرحمان یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نہ تو گلگت بلتستان کوئی نوآبادیات ہے نہ ہی وہ وائسرائے ہیں کہ جو چاہیں کر گزریں۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوامی مفادات کی خاطر ثابت شده کرپٹ لیگ کے سامنے چٹان بن کر کھڑی ہے ۔عوامی مینڈیٹ کی باتیں کرنے والے شہبازشریف اور مریم نواز کی آمد کی افواہیں اور سرکاری مشینری اور نیٹکو کی بسوں کو استعمال کرنے کے باوجود گلگت جلسہ مکمل طور پر فلاپ ہوگیا۔ دیامر سے کوئی قافلہ اس میں شرکت کے لئے نہیں آیا نماز کے وقت اور دو مساجد کے درمیان جلسہ کرنے کے باوجود لوگوں کی عدم شرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ نواز کی کی یہ آخری برسی ہے اگلے سال سے انہیں سرکاری وسائل میسر نہیں ہونگے۔ اگر انہیں عوامی طاقت دیکھانے کا شوق تھا تو سٹی پارک میں جلسہ کرنے کی ہمت کرتے۔حفیظ سرکار کو اب نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے کہ عدالت عظمیٰ کے بعد عوامی عدالت نے بھی انہیں بری طرح سے مسترد کردیا ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا