تانگیر( بیوروچیف رپورٹ ) تحریک ضلع داریل تانگیر کا ایشو مقامی آبادی سے نکل کرپاکستان کے دانشوروں اور صحافیوں کو اپنی طرف متوجہ کرگیا۔ اس بات کا اعلان آج تحریک ضلع داریل تانگیر جی بی کے ذمہ داروں کو انٹرنیشنل جرنلسٹس کونسل آف پاکستان کے مرکزی صدر سردار ممتاز انقلابی مرکزی جنرل سکریٹری رشید ساگر، اینکر پرسن رائل نیوز پروگرام جرم بے نقاب، اینکر پرسن ایس این آئی نازیہ کھوکر ناز گلگت بلتستان زون کے صدر عباداللہ شاہ اور دیگر نے خصوصی ملاقات میں کیا۔ آئی جے سی او پی کے مرکزی صدر نے اس موقع پر خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس ایشو کو نہ صرف داریل تانگیر سے منسوب کیا بلکہ کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہماری تمام تر ھمدردیاں اور کوشیشں داریل تانگیر کے ساتھ ہیں۔ ہم نہ صرف اس ایشو کو گلگت بلتستان لیول پہ اٹھاینگے بلکہ ملکی سطح پر بھی اس ایشو کے حل کیلئے تحریک چلاینگے۔مرکزی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسوقت کے حالات کا تقاضا ہیکہ ان دونوں وادیوں کے مکین باھم ملکر اتفاق کے ساتھ اپنے مطالبات کو حکام بالا تک بحرف بہ حرف پہنچائیں اور مطالبات کے حل تک تحریک داریل تانگیرموومنٹ کے شانہ بشانہ رہنا ہماری نہ صرف ذمہ داری ہے بلکہ یہ ہمارا فرض ہے۔مرکزی صدر نے آئی جے سی او پی گلگت بلتستان کے ذمہ داروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ جب تک یہ ایشو زیرغور ہے اس وقت تک پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا نہ صرف عوامی موقف کا بھرپور سپورٹ کرے بلکہ جہاں تک ممکن ہو مقامی سطح پر متاثرہ لوگوں کے مطالبات اور شکایات کو مقتدر حلقوں تک پہنچانے کے لئے میں کوئی باقی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ تفصیلی نشست کے بعد کے بعد زونل صدر عباداللہ شاہ نے مرکزی صدر سردار ممتاز انقلابی کا شکریہ اداکیا اور امید ظاہر کی کہ تحریک ضلع داریل تانگیر مومنٹ کو ایسے ذمہ داران کی سرپرستی مزید تقویت کا باعث بنے گی۔ اور ہم ایشو کے حل تک اپنے مطالبات اور شکایات کو حکام بالا تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھائے رکھینگے۔یہ ہمارا عزم ہے اور یہی ہمارا مستقبل ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا