گلگت (پ۔ر)پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ نام نہاد لوہے کے چنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔سینیٹ انتخابات میں خرید و فروخت کے الزامات لگانے والوں پر ماضی میں بے نظیر بھٹو شہید کا مینڈیٹ چرانے کے لئے پیسے لینے کا الزام ثابت شدہ ہے۔نواز شریف کو عدلیہ نے جو سزا دی ہے وہ تو کچھ نہیں اب تاریخ جو سزا دے گی وہ بہت عبرت ناک ہوگی۔نواز شریف پیپلز پارٹی کے خلاف سازشوں کا حصہ بن کر کٹھ پتلی بنے رہے آج اپنے اوپر بات آئی تو نوحہ کناں ہیں۔نواز لیگ کا وجود ہی سسٹم کی خرابی کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کو پچاس سالوں سے انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا مگر خاتمے کا خواب دیکھنے والے دلوں میں حسرت لئے رخصت ہوئے۔نواز شریف خود سیاسی سسٹم خراب کرنے والوں کا آلہ کار۔آج سسٹم کے خلاف بغاوت کی باتیں عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششوں سے زیادہ کچھ نہیں۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ضیاءالحق سے لیکر مشرف اور افتخار چوہدری تک کس نے ذاتی مفادات کی خاطر سسٹم کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بے نظیر بھٹو شہید نے نواز شریف سے کہا بھی تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آپ بھٹو خاندان کو یاد کر کے روئیں گے۔آج پانی سر سے گزر چکا ہے تو وہ لڑنے کی باتیں کرتے ہیں۔ووٹ کی توہین کی باتیں کرنے والے خود ہارس ٹریڈنگ کے بانی ہیں اور غیر جمہوری طاقتوں کے ذریعے اقتدار حاصل کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔پانامہ ایک بین الاقوامی طور ہر ثابت شدہ معاملہ تھا جس پر کئی ممالک کے حکمرانوں نے اپنے نام آنے ہر استعفیٰ دیا مگر کتنے افسوس کا مقام ہے کہ نواز شریف پاکستان کی جے آئی ٹی اور عدالتوں سے جرم ثابت ہونے کے بعد بھی تسلیم کرنے کے بجائے شور مچا رہے ہیں۔ملک میں آج اگر جمہوریت کا وقار پارلیمنٹ کی عزت اور ووٹ کی طاقت ہے تو وہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کی قربانیوں کی بدولت ہے۔جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اصولوں پر کوئی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔اگرچہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کو عدالتوں سے انصاف نہیں ملا مگر وہ تاریخ کی عدالت میں سرخرو ہوئے اور آج بدترین مخالفین بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے ہر مجبور ہیں
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا