اسلام آباد (آن لائن ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوہری شہریت رکھنے والے نو منتخب سینیٹر کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے الیکشن کمیشن کو روک دیا ہے اور چیف جسٹس نے واضح کیا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والے لوگ سینیٹر نہیں بن سکتے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بینچ نے دوہری شہریت کیس کی سماعت کی جس دوران اٹارنی جنرل نے بتایاکہ دوہری شہریت رکھنے والوں میں چودھری سرورحسین، ہارون اختر،مسز نزہت اور سعدیہ عباسی شامل ہیں، یہ لوگ دوہری شہریت چھوڑ کر حلف اٹھا سکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا نہیں ہوسکتا، شہریت چھوڑنے کا ثبوت دینا چاہیے ، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ سینیٹرشپ ختم ہونے کے بعد دوبارہ دوہری شہریت رکھ لیں، سینیٹرز کو مطمئن کرنا ہوگا کہ دوہری شہریت ترک کرچکے ہیں۔
عدالت نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ فیصلے تک چاروں افراد کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیاجائے اور سماعت ملتوی کردی۔
دوہری شہریت رکھنے والے نو منتخب سینیٹرز کی اُمیدوں پر سپریم کورٹ نے پانی پھیر دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا