گلگت(چیف رپورٹر) پولیس گردی کے نتیجے میں نوجوان کی ہلاکت انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت عمل ہے ایسے واقعات کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی محکمہ پولیس کے سربراہ ائی جی پی فوری نوٹس لیتے ہوئے اس واقعہ کے زمہ داروں کو بے نقاب کرکے محکمے سے فراغ کریں ان خیالات کا اظہار رہنماء پی پی پی گلگت بلتستان محمد علی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کیا۔انھوںنے مزید کہا کہ مقتول عابد حسین ایک شریف النفس محنتی اور کاروباری نوجوان تھے کرنل حسن مارکیٹ و اطراف کے سب دکاندار مقتول کو جانتے تھے مقتول کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی کا حصہ نہیں تھے سارا دن دکانداری کرکے اپنے ماں باپ بہن بھائی بیوی بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔معاشرے میں چھوٹے موٹے تنازعات ہر فرد کے ہوتے ہیں ایسے میں قانون کا فرض بنتا ہے کہ وہ انصاف کا مظاہرہ کرے محکمہ پولیس اپنا کام کرے پولیس کا کام ملزم کو پکڑ کر عدالت میں پیش کرنا ہے مگر گلگت بلتستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہیں ۔عدالت کا کام بھی پولیس سر انجام دینے لگی ہے۔جب قانون کے محافظ ماورائے عدالت قتل و غارت گری کریں تو شہری عدم تحفظ کا شکار تو ہونگے۔ایسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔اور اس واقعہ کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ہم چیف جسٹس سپریم ایپلٹ کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ کہ وہ اس واقعہ پر سوموٹو ایکشن لے اور مجرموں کو نشان عبرت بنادے تاکہ معاشرے میں عدم تحفظ کا شکار ہونے سے بچ جائے اگر اس واقعے کا نوٹس نہیں لیا گیا تو اور زمہ داروں کا سزا نہیں دی گی تو ایسے واقعات کے زمہ داروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور مزید ایسے واقعات رونما ہونگے۔عابد حسین کا یہ واقعہ د ہفتے پہلے کا نہیں بلکہ ڈھائی ماہ قبل کا واقعہ ہے مقتول کی لاش گزشتہ روز برامد ہوئی ہے جبکہ پولیس نے اس واقعے کو دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ اس واقعے کو چھپا کر دبا کر رکھا۔دو ماہ تک مقتول کے ورثاء دریا میں لاش ڈھونڈتے رہے کے پی کے سے غوط خوروں کو لایا گیا مگر کامیابی نہیں ملی جبکہ پولیس نے ورثاء کو جھوٹ پر جھوٹ بولتے رہے لہذا فوری طور پر عابد کو انصاف دلایا جائے ورنہ معاشرے میں مزید بگاڑ پیدا ہوگی۔
پولیس گردی کے نتیجے میں نوجوان کی ہلاکت پر پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نے آئی جی پولیس سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا