راولپنڈی(نامہ نگار خصوصی) پنجاب کے مختلف شہروں میں گلگت بلتستان کے طلباء کے ساتھ ذیادتیاں زور پکڑتی جارہی ہے۔ گزشتہ مہینے لاہور میں ایک طالب علم کو کھیل کے دوران معمولی تکرار میں مار مار کر قتل کردیا ، اُسی ہفتے راولپنڈی کے ٹیوشن سنٹر میں کچھ شر پسند عناصر کی جانب سے دو طالب علموں کا سنٹر سے نکلتے وقت مار مار کر لہوہان کردیا۔ اسی طرح آج راولپنڈی پولیس نے پتنگ بازی کا الزام لگا کر گلگت بلتستان کے طالب علموں کو دوپہر کے وقت گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلئے جبکہ ایف آئی آر میں گرفتاری وقت شام بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق دوران گشت پولیس نے مذکورہ طالب علم سے کیمیکل والی ڈوری اور کئی درجن پینگیں برآمد کی ہے جو کہ قانونی طور جرم ہے۔ پولیس نے رات گئے سید پور پنڈورہ میں واقع راول بوائز ہاسٹل پر اچانک چھاپا مارا تو وہاں مقیم طلباء میں خوف ہراس پھیل گئے۔ ہاسٹل میں مقیم طلباء کے مطابق پولیس نے طلباء کو ہاسٹل سے گرفتار کیا ہے جسکا سی سی ٹی وی ثبوت موجود ہے لیکن پولیس نے آیف آئی آر میں گرفتاری کا مقام ہولی فیملی ہسپتال درج کیا ہے اور 50 سے ذیادہ پتنگیں برآمد ہونے کا دعویِ کیا ہے جسکا مطلب صرف راولپنڈی میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے طلباء میں خوف ہراس پھلانا ہے۔ ہاسٹل میں مقیم طلباء نے شکوہ کیا ہے کہ ہمیں اپنے خطے میں بنیادی تعلیمی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے اس طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں دربدر ہونا پڑتا ہے جہاں ہمیں ہر وقت کسی نہ کسی قسم کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، طلباء نے چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان اور آئی جی گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے طلباء کے ساتھ پولیس گردی کا نوٹس لیں اور پاکستان بھر میں حصول تعلیم کیلئے مقیم گلگت بلتستان کے طالب علموں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے وفاقی سطح پر آواز بلند کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا