شگر (رپورٹ: محمد اعظم شگری) گلگت بلتستان کےضلع شگر علاقہ باشہ جو تقریباً 15 سے 20سےزائد گاوں پر مشتمل ایک علاقہ ہے. جو اکسویں صدی میں بھی گرلزسکول سے محروم جناب عمران ندیم صاحب نے 25 سال حکومت کی کبھی انکی نظر باشہ کے عوام کے مسائل پر نہ پڑی راجہ صاحب تو ایم کیو ایم والوں کی مرحون منت ایک دفعہ عوام کی خدمت کرنے کا موقع ملا مگر افسوس ان کی بھی نظر صرف تسر تک محدود رہا… نمائندوں کی بالکل نظر انداز کرنے کی وجہ سے بہت سے مسائل کا شکار رہا اور ابھی بھی ہے مگر پچھلے دو تین سالوں سے اقراء فنڈ کی مرحون منت ماسٹر کا مسئلہ تھوڑا کچھ حل ہوا ہے۔ مگر شگر کے نمایندوں کی نظر انداز کر کے رکھنے کی وجہ سے ارندو سے لیکر تھورگو تک کوئی گرلز سکول نہیں ہائی سکولز یا کالج کی بات تودور پورے علاقے ميں کوئي ایک گرلزپرائمری یا مڈل سکول تک نہیں۔ شرم بھی ان نمائندوں کی نہیں آتی ووٹ کے قریب بکاریوں کی طرح چکر پہ چکر لگاتا رہتا ہے مگر جیسے ووٹ ختم ان کو یہ تک یاد نہیں رہتا کہ باشہ نامی کوئی علاقہ بھی ہے جن سے ہم نے ووٹ لیا ہے جن کی وجہ سے جیت گئے… لہٰذاہمارا مطالبہ ہے بے حس بے حیا نمائندوں سے اپنی نظریں تسر سے تک محدود نہ رکھیں… باشہ کے عوام کی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقے کی کسی گاوں میں گرلز سکول بنالیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا