اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے وزیر اعلی کی قیادت میں جہاں گلگت بلتستان کونسل کی خاتمے پر ممبران کونسل اور اراکین اسمبلی نے نواز شریف کے دولت کدے پر حاضری دی اور وہیں پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے عدم اعتماد تحریک کی خبریں بھی ملاقات کے دوران زیر بحث آئے۔ مسلم لیگ نون کے اہم عہدے دار کے مطابق وزیر اعلی کی جانب سے کونسل کی تحلیل اور عدم اعتماد کی ہواوں کو روکنے کیلئے پنجاب حکومت سے وفاقی سطح پر اپنا اثررسوخ استعمال کرنے کا عاجزانہ مطالبہ کیا۔ جس پر نواز شریف نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں حکومت بچانے کیلئے مقامی سطح پر عوام میں ہمدردی حاصل کرنے کیلئے فارمولہ تیار کرنے کا نسخہ دیا ہے جبکہ کونسل کی تحلیل کے بعد بھی کونسل کے ممبران کو تنخواہیں اور مراعات کا سلسلہ جاری رکھنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے عدم اعتماد کی خبروں کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور گلگت بلتستان میں کو بلوچستان حکومت کی طرح کے مسائل سے بچنے کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ نرم رویہ اپناتے ہوئے مدت پوری کرنے کیلئے جمہوری انداز میں ڈپلومیسی کا حکم دیا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا