راولپنڈی(ویب ڈیسک)پاک فوج نے مسلح افواج کے نام پر چلنے والے 255 جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے لیے فہرستیں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیں۔تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی فہرست میں 45 ٹوئٹر، 94 فیس بک، 101 یوٹیوب اور 15 انسٹاگرام کے جعلی اکاؤنٹس کی تفصیلات شامل ہیں۔واضح رہے کہ جعلی اکاؤنٹس براہ راست پاکستان آرمی، پاکستان نیوی اور پاکستان ایئرفورس کا نام استعمال کر رہے ہیں، جن کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ ان اکاؤنٹس میں جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ سب فوج کا بیانیہ ہے۔سوشل میڈیا کے ان جعلی اکاؤنٹس میں سے کئی ایسے بھی ہیں، جن پر پاک فوج کے حق میں باقاعدہ ٹوئیٹس کی جاتی تھیں، تاہم آئی ایس پی آر نے ان اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی کرکے واضح پیغام دیا ہے کہ فوج ایک منظم ادارہ ہے جہاں قانون کا احترام فرض اول ہے۔ٹوئٹر اکاؤنٹس میں سب سے زیادہ فالورز ‘پاکستان آرمی’ نامی اکاؤنٹ کے ہیں، جن کے 1 لاکھ 21 ہزار فالورز ہیں۔’پاکستان ملٹری’ نامی اکاؤنٹ کے 84 ہزار فالورز ہیں اور ان سے فوج سے متعلق خبریں ٹوئیٹ کی جاتی تھیں۔’آئی ایس آئی’ نامی اکاؤنٹ کے 64 ہزار فالورز ہیں، دیگر اکاؤنٹس ‘پراوڈ خاکی’، ‘گڈ سولجر’، ‘فوجی ٹوئیٹ’، ‘آئی ایس آئی آر ٹی’اور ‘پروٹیکٹرز’ کے نام سے سرگرم عمل تھے۔فیس بک پر پاکستان کی مسلح افواج کے ناموں سے چلنے والے اکاؤنٹس کی تعداد 94 ہے۔ ‘پاک آرمی’ کے نام سے اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کی تعداد 9 لاکھ 62 ہزار سے زائد ہے۔اسی طرح پاکستان نیوی، ائیر فورس، آئی ایس آئی، آئی ایس پی آر، ڈی جی آئی ایس پی آر، آئی ایس پی آر آفیشل، پاک نیوی آفیشل، پاک ائیر فورس آفیشل، پی اے ایف گرلز اور ایس ایس جی جیسے ناموں کے ساتھ بنائے گئے اکاؤنٹس کو فالو کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے جبکہ فیس بک پر 31 اکاؤنٹس پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ٹائٹل کے ساتھ ہیں۔
سوشل میڈیا پر جعلی اکاونٹس والوں کی شامت آگئی، پاک فوج نے اہم قدم اُٹھا لیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا