واشنگٹن(آئی این پی)پینٹاگان کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا حکمت عملے کے تحت پاکستان پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں،شام باغیوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہاہے، بشار الاسد حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران پینٹاگان کی ترجمان ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکینزی کا کہنا تھا کہ جغرافیائی لحاذ سے پاکستان خطے کا اہم ملک ہے۔صرف افغانستان میں امن کیلئے اسلام آباد سے تعاون درکارہے۔ ایک سوال پر ڈینا کا کہنا تھا کہ پاکستان خود دہشتگردی کا متاثر ہے۔ دہشتگردی کے خلاف اسلام آباد کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان کے ستر فیصد حصے پر طالبان کے قبضے سے متعلق سوال پر ڈینا کا کہنا تھا ساٹھ فیصد حصے پر افغان حکومت کی رٹ ہے اور صرف چالیس فیصد حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔شام سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا ترکی کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ترکی پر کرد باغیوں کے راکٹ حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ڈینا وائٹ اور لیفٹیننٹ جنرل مکنیزی نے دھمکی دی کہ شامی فوج نے باغیوں پر کیمیائی حملے بند نہ کئے تو بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
امریکہ نے پاکستان کے آگے ہتھیار ڈال دی، پنٹاگان کا اہم اعلان۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا