سکردو(ڈسٹرک رپورٹر )انجمن تاجران بلتستان کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا ہے کہ تمام تر مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد وزیر قانون کا یوٹرن لینا سمجھ سے بالا تر ہے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔کہ ہمارے مطالبات من و عن تسلیم کئے جانے پر ہم نے ہڑتال اور کسی قسم کے مظاہرے نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم وزیر قانون کے بیان سے لگتا ہے کہ حکومت معاملے کو ٹال کر وقت گزاری کی کوششیں کررہی ہے جو حکومت کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ھوگا انہوں نے کہا کہ وزیر قانون خود کا تیار کردہ ڈرافٹ ہمارے پاس موجود ہے جس میں انہوں خود لکھا ہے کہ آئندہ ٹیکس لگانے کا مجاز اسمبلی ہوگی اور اسمبلی کے پاس کردہ قرار داد کی روشنی میں ہی ٹیکس لگانے یا نہ لگانے کا فیصلہ ھوگا انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012کے خاتمے اور تمام ٹیکس تاحکم ثانی معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے پر انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی قائم ہے اگر حکومت اس فیصلے سے دستبردار ہونے کا پروگرام رکھتی ہے تو ہم بھی آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکس کو آئینی صوبے سے مشروط کیا ہوا ہے اور ٹیکس کا معاملہ اس وقت سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے وہاں سے فیصلہ آنے اور گلگت بلتستان کو آئینی طور پر مکمل صوبہ تسلیم کرنے تک ہم کسی بھی قسم کا ٹیکس دینے کو پہلے تیار تھا اور نہ اب تیار ہے انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کے بیان سے لگتا ہے کہ حکومت کسی اور طریقے سے ٹیکس لگانے کا سوچ رہی ہے اگر حکومت نے ایک بار پھر ٹیکس لگانے کی ترکیب سوچی تو ہمارآ احتجاج پہلے سے بھی سخت ہوگا اس کے بعد ٹیکس کے حامیوں کو کہیں چھپنے کو جگہ نہیں ملے گی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا