سکردو(پ۔ر) پیپلز پارٹی میڈیا سیل بلتستان ڈویژن کے انچارج طالب حسین نے کہا ہے کہ جس شخص کو پاگل خانے میں ہونا چاہئے اس کو مشیر اطلاعات بنایا گیا ہے۔شمس میر مشیر اطلاعات نہیں بلکہ مشیر لغویات ہیں۔لگتا ہے وزیر اعلی شمس میر کے کھانوں میں نمک تیز رکھتے ہیں جسکا اثر انکے بیہودہ بیانات سے ظاہر ہورہا ہے۔اسطرح کے لوگ معاشرے اور سیاست پر بدنما داغ ہیں۔صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے بے شرم ترین شخص کو مشیر اطلاعات بنا کر اپنے قائدین کی پیروی کی ہے جو دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے جیسے مکروہ کام پر فخر کرتے ہیں۔جن کے قائدین خود اپنے خاندان پر تہمت لگانے والے رانا ثناءاللہ جیسے شخص کو دست راست بنائیں ان کے پیرو کاروں سے اسطرح کے ہی بیانات کی توقع کی جا سکتی ہے۔کم ظرف لوگوں کا اعلی عہدوں پر تقرر عوامی مینڈیٹ کی توہین اور صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔جس طرح خالی ڈھول زیادہ بجتا ہے اسی طرح صوبائی حکومت کی کوئی عملی کارکردگی ہوتی تو انہیں کرائے کے مشیر لغویات کی ضرورت نہ ہوتی۔پیپلز پارٹی سیاست میں اخلاقی اقدار کو اہمیت دیتی ہے۔پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ اور مہدی شاہ سمیت دیگر کے بارے میں غیر اخلاقی اور بیہودہ بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔پوری صوبائی حکومت ملکر بھی اکیلے امجد ایڈوکیٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے اسلئے اب یہ لوگ کردار کشی جیسے گھٹیا کام پر اتر آئے ہیں۔امجد ایڈوکیٹ صوبائی حکومت کی کرپشن اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں اور گلگت بلتستان کے عوام کی امیدوں اور امنگوں کا مرکز و محور ہیں۔
پیپلزپارٹی کے رہنما نے مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے اہم رہنما کو پاگل قرار دے دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا