کھرمنگ( محمد حسین) ضلع کھرمنگ جہاں انتطامی حوالے سے مسائلستان بنا ہوا ہے وہیں سرکاری سطح پر نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے ضلع بھر میںجعلی مشروبات اور غذائی مواد جس میں روزہ مرہ میں استعمال ہونے والے کوکینگ گھی،مصالحہ جات،بسکٹس،بچوں کے کھانے کی اشیاء،چائے پاوڈر دودھ شامل ہیں، بلا خوف خطر فروخت کیا جارہا ہےلیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عوامی حلقوں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضمن میں ہنگامی بنیادوں پر ایکشن لیں اور گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع کھرمنگ عوامی مفاد اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوکانوں میں فروخت ہونے والےغیر معیاری گمنام کمپینوں کے مشروبات اور جعلی کمپنیوں کے نام پر بکنے والے تیل، چائے ،گھی صابن ،شیپو ، بسکٹ ، دودھ پاوڈراور دیگر اشیاء کی فروخت پرمکمل پرپابندی لگا کر فروخت کرنے والوں پر جرمانہ عائد کر یں۔
ضلع کھرمنگ میں غیر معیاری مواد غذا کی بھر مار، مہلک بیماریاں پھیلنے کا خدشہ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا