گلگت ( خصوصی رپورٹ) گزشتہ دنوں گلگت میں گرفتار ہونے والے سوشل ایکٹویسٹ نثار حسنین رمل کے حوالے سے گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان مبارک جان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سوشل میڈیا پر علماء کرام، سیاست دانوں اور سرکاری افسران کے خلاف اشتعال دلانے اور بغاوت کے زمرے میں آنے والے مسیجز پھیلانے کے الزام میں اُنہیں گرفتار کرکے اُن کے خلاف علی آباد تھانہ میں 124 اے، 125 اے، 153 اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے دفعہ 11 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فرض کریں اگر یہ سب باتیں درست بھی ہے تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ قانون صرف عوام کیلئے ہے ؟ یا طاقتور طبقہ بھی قانون سے بالاتر نہیں۔ اگر نہیں تو اس وقت گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے کئی اہم ممبران پاکستان کے کئی معتبر مذہبی اور سیاسی شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی پھیلانے اور لوگوں کو براہ راست دھمکیاں دینے میں مصروف ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا