شگر(نامہ نگار)مجلس وحدت المسلمین شگر کے رہنماء محمد ظہیر عباس نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ٹیکس کے معاملے میں عوام اور ایکشن کمیٹی کیساتھ وعدے سے انحراف نہ کریں۔ اور ٹیکس ایڈاپشن کی معاملے کو فوری طور پر حل کریں ورنہ عوام 21دسمبر سے تاریخی دھرنے اور احتجاج پر مجبور ہونگے جوکہ اس صوبائی حکومت اور جی بی کونسل کی برخاتسگی تک جاری رہیں گے۔ دھرنے کے بعد حکومت سے مزید کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو ریلیف دینے میں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔ یہ حکومت اپنے وفاقی آقاؤں کی اشارے پر گلگت بلتستان کے عوام کو تنگ کرنے اور ان پر زندگی دشوار کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس حکومت کے پاس خود سے فیصلہ کرنے کی نہ جرات ہے اور نہ ہی اختیار۔ ٹیکس کے معاملے پر یہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام دشمن پالیسی سے باز رہے اور ٹیکس لگانے سے باز رہے۔ عوام کیساتھ کئے گئے وعدے پر عمل پیرا ہوکرفوری طور ٹیکس ایڈاپشن کی معاملے کو حل کریں ۔ ورنہ گلگت بلتستان کے عوام 21دسمبر سے تاریخی دھرنے اور احتجاج کے ذریعے اس بے اختیار اور عوام دشمن حکومت کو ہتاکر دم لیں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا