چلاس (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور نے کہا ہے کہ متاثرین ڈیم تھور ماڈل کالونی ہرپن داس کے علاوہ کہیں اور پلاٹ ہرگز نہیں لینگے تھور واپڈا کالونی میں گریڈ ون سے گریڈ پانچ تک کے ملازمتوں میں بغیر ٹیسٹ انٹرویو کے متاثرین کو بھرتی کیا جائے نئے شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے قبل نیا معاوضے مقرر کئے جائیں اور سروے میں متاثرین کی کمیٹی کو شامل کیا جائے ان خیالات کا اظہار متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم تھور کمیٹی کے اراکین نمبردار محمد بشیر ، حبیب الرحمن ، ہارون ، دلبر خان ، ادریس ، محمد خان خان بہادر ، مقبول و دیگر نے تھور داس میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ 2011 اور 2012 میں ڈیم کے لئے زمینوں درختوں کی پیمائش کے دوران انتہائی زیادتی کی گئی ہے جس کا ازالہ ضروری ہے انہوں نے کہا کہ 2007 کے دوران کی گئی کرسڈل سروے کو دوبارہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی صرف ان لوگوں نے تشکیل دی ہے جن کے گھر دریا برد ہو رہے ہیں اور مستقبل میں ان کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشہ ڈیم کے لئے سب سے پہلی قربانی ہم نے دی ہے اور اس قربانی کے بدلے ہم صرف اپنے جائز مطالبات کے حل کی استدعا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ 2007 میں کی گئی کرسڈل سروے میں چند لوگوں کے نام ہیں سینکڑوں متاثرین کے نام ہی شامل نہیں کیا گیا ہے اب یہ کہاں جائیں گے انہوں نے کہا کہ زمینوں درختوں کی پیمائش میں زیادتی کی انتہا کی گئی ہے جس کا ابھی تک شنوائی نہیں ہوئی ہے فوری ان جائز مطالبات کا حل نکالنا ہو گا ورنہ بھرپور عوامی قوت کےساتھ شاہراہ قراقرم پر دھرنا دینے پر مجبور ہونگے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا