غذر( نامہ نگار خصوصی) غذر سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ نون کے ناراض سنئیر سیاست دان غلام محمد کو کابینہ میں بطور مشیر شامل کر لیا گیا اُنکے پاس وزیر کے برابر اختیارات ہونگے اور اُنہیں مرعات بھی وزراء کے برابر ملے گا۔ مسلم لیگ نون غذر میں مرکزی حکومت کی جانب سے مشیروں اور عہدوں کی تقسیم میں غذر کو مسلسل نظرانداز کرنے میں پاڑتیاں بدل کے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے فدا خان فدا کے بعد اب غلام محمد کو مشیر بنانے کا اصولی فیصلہ کرکے غذر کے کارکنان کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسری طرف عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کا دور ختم ہوا ہے وفاق میں گرتی ہوئی ساکھ اور سیاسی عدم استحکام کو دیکھتے ہوئے گلگت بلتستان میں بھی نون لیگ کی حکومت چند مہینوں کے مہمان ہیں لہذااُنہیں یہ عہدہ قبول نہیں کرنا چاہئے تھا تاکہ کل کو عوامی مسائل حل نہ ہونے پر عوامی رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا