کھرمنگ( نمائندہ خصوصی) وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کا مسلہ پیچیدہ صورت حال اختیار کررہا ہے،اس حوالے سے عوام میں بے چینی نظر آتا ہیجس کی بنیادی وجہ کھرمنگ کے سیاسی اور مذہبی قیادت میں اجتماعی سوچ کا فقدان ہے۔ یہی وجہ ہیکہ سیاسی اور مذہبی طور پر اثررسوخ رکھنے والوں نے اس مسلے کی حل کیلئے عوام میں مفاہمت پیدا کرنے کیلئے کوشش کرنے کے بجائے یونین کونسل کی بنیاد پر ضلعی ہیڈ کوارٹرکا مطالبہ شروع کیا ہے یوں ضلعی ہیڈکوارٹر کا مسلہ ایک طرح سے مذاق بن چُکی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کی اصل وجہ کھرمنگ کے سیاسی ذمہ داران کا اس حوالے سے پرُعزم نہ ہونا ہے کیونکہ اس وقت ہیڈکوارٹر کے معاملے پردو قسم کے لابی سرگم ہیں۔ ایک طرف مہدی آباد لابی کی خواہش ہے کہ ہیڈکوارٹر کسی بھی صورت وہاں بن جائے تاکہ اُن کے مفادات کو نقصان نہ پونچے بلکہ دوسری طرف طولتی سے اوپر کے لابی اس تگ دو میں ہے کہ ہیڈکوارٹر کسی بھی طرح طولتی میں بن جائے تاکہ اُن کے مفادات اور سیاسی ساکھ کو نقصان نہ پونچے۔ مفاد پرستی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت کوئی بھی شخص پورے کھرمنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار ادا کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آرہا جو کہ ضلع کھرمنگ کے عوام کی بدقسمتی ہے۔
اس حوالے کچھ سیاسی شعور اور علاقی سوچ رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ ہیڈکوارٹر کیلئے چونکہ پہلے ہی حکومت کی جانب سے گوہری سے ملحق میدان کیلئے باقاعدہ طور میں نوٹفیکش جاری ہوا ہوا ہے لہذاضلعی انتظامیہ کو چاہئے مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے متاثرین کو معاوضہ دیکر جلداز جلد ڈسٹرک ہیڈکوارٹر کے مسلے کو حل کریں تاکہ سلگتے عوامی مسائل بھی حکومتی نظروں سے گزرسکے۔
ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کیلئے رسہ کشی عروج پر،سیاست کا نام پر مفاد پرستوں نے عوام کو ذہنی طور پر پریشان کیا ہوا ہے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا