سکردو(ذیڈ اے کھرمنگی )گلگت بلتستان کی حکومت اپنے عبوری صوبے میں 2/12 سال گزرنے کے بعد بھی بلدیاتی الیکشن کرانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے.جس کی وجہ سے شہروں کی بلدیاتی نظام و دہی علاقوں کی نہری و آبپاشی نظام مکمل مفلوج ہو کر رہ چکا ہے.عوامی مسائل صحت’صفائی اور نچلی سطح کے غریب عوام کے مسائل جوں کے توں ہے بلکہ اس میں خطرناک حد تک اضافہ بھی ہوا ہے.بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے ایک تو عام غریب عوام اپنی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچا سکتے وہی ان کو قدرتی آفات کے دوران یکتا و تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے.اس سلسلے میں حکومت کو چاہے کہ وہ جلد از جلد انتخابات کروا کر غریب اور پسے ہوئے عوام کا ہمنوا بن جائے وہی جوانوں سے گزارش ہے کہ وہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے اور ماوں ‘,بہنوں.بزرگوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے علاقے کے نوجوان نسلوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کرے اور ان کے لئے راہ ہموار کرئے۔.
حکومت گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں مکمل طور پر ناکام،عوام کی اکثریت جلد بلدیاتی انتخابات کے زبردست حامی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا