گلگت ( پ،ر) ٹمبر سپلائی پر پابندی ہٹ جانے سے جہاں حکومت اور حکومتی پشت پناہی میں جنگلات کی کٹائی میں ملوث عناصر بہت خوش نظر آتا ہے وہیں گلگت بلتستان میں جنگلات کی تحفظ کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے، بہت سے علاقوں میں اس حوالے سے چند سالوں سے اس طرف توجہ دی جا رہی ہے، لکڑی کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کیلئے بیریئرز لگائے جا رہے ہیں اور غیرقانونی طور پر جنگلات کٹائی میں ملوث عناصر کو سزائیں دی جارہی ہے وہیں خود وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کا ٹمبرمافیا کے ساتھ کارباوری لین دین بھی میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔، دوسری جانب وہ لوگ جومختلف فارسٹ چیک پوسٹوں پرچوبیس گھنٹے فرائض سرانجام دینے ہیں مگر اُنکی ملازمت عارضی ہونے کے ساتھ ساتھ صرف 4000 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ ملازمین کس طرح اپنے گھروں کا خرچ چلاتے ہونگے ارباب اختیار کو سوچنے کی ضرورت ہے۔
محکمہ جنگلات کے ذمہ داران کو چاہئے عارضی ملازمین کے حال پر توجہ دیں اُنہیں مستقل کریں اور لیبر قوانین کے مطابق اُن سے ڈیوٹی لیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا