سرزمین و علم و ادب بلتستان جہاں مناظر فطرت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہے وہیں اس کی منفرد تہذیب و تمدن اور ثقافت، یہاں کے باسیوں کی علم و ادب میں گہری دلچسپی نے ملکی اور عالمی ادیبوں، دانشوروں اور قلمکاروں کو یہاں کا دلدادہ بنا ڈالا ہے۔ بلتستان ڈویژن کے مرکزی شہرسکردو کی علمی و ادبی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے عالمی سطح کے کئی شہرت یافتہ علمی و ادبی شخصیات نے اسے “لکھنئو ثانی ” کا نام دیا ہوا ہے۔ گوکہ سرزمین بلتستان اج بھی جدید سائنسی ایجادات اور سہولیات سے یکسر محروم ہے جس باعث زندگی کے ہر شعبے خاص طور پر علم و ادب کے میدان میں تحقیق و تحریر کےبار گراں میں سرگرداں لوگوں کےلئے بڑے مسائل درپیش ہیں اُس کے باوجود سرزمین بلتستان کے خداد صلاحیتوں کی شخصیات نے بطریق احسن یہ کام نہ صرف ادا کیا ہوا ہے بلکہ ملک کے کسی بھی علاقے کے ادیبوں ، دانشوروں اور قلمکاروں سے کسی طور پیچھے نہیں۔ تاریخ، زبان، ادب، ثقافت، فنون لطیفہ ہر شعبے میں بلتستان کے دانشوروں نے قابل فخر کام کیا اور یہ سلسلہ پوری طرح جاری و ساری ہے۔ یہاں ایک چیز کو شدت سے محسوس کیا جارہاہے وہ یہ کہ تسلسل کے ساتھ بلتستان کی نامی گرامی علمی و ادبی شخصیات یکے بعد دیگرے سوئے عدم کو سدھار رہی ہیں جس سے بلتستان کے علمی و ادبی میدان میں قحط الرجال کا سا سماں پیدا ہے۔ فدا حسین شمیم بلتستانی، شیخ غلام حسین سحر، غلام حسن حسنی، شیخ غلام محمد انصاری، پروفیسر حشمت کما ل الہامی، پروفیسر غلام حسین سلیم، حاجی غلام حسن طالب ، راجہ محمد علی شاہ صبا شگری، غلام عباس کھر گرونگ سمیت بہت ساری علمی و ادبی شخصیات جن کی علمی و ادبی میدان میں گراں قدر خدمات رہی ہیں مگر وہ خود اج ہم میں نہیں۔ سید محمد عباس کاظمی کے ابائو اجداد کاتعلق سری نگر کشمیر کے دولت آباد سے تھا وہ تقسیم ہند سے قبل بسلسلہ تجارت بلتستان آئے اور روندو کے علاقہ میندی میں قیام پذیر ہوکر کاروبار شروع کیا۔1954 ء میں سید محمد عباس کاظمی مرحوم کے والد محترم بچوں کی تعلیم کی غرض سے سکردو منتقل ہوگئے اور پھر یہیں کے ہوکر رہ گئے۔مرحوم سید محمد عباس کاظمی کے مطابق روندو میندی میں اُن کا گھر راجہ خاندان کے رہائشی مکان (قلعہ) کے قریب تھا اور میندی میں راجاء خاندان پولو کھیلتے تھے جہاں بلتی موسیقی کے مختلف اقسام سے بھی راجا ئوں کے ساتھ اُن کے تعلق دار محظوظ ہوا کرتے تھے یہیں سے سید محمد عباس کاظمی کو بلتی موسیقی اور ثقافت سے لگائو پیدا ہوا۔ جب سکردو منتقل ہوئے تو بلتستان کے معروف علمی شخصیت وزیر غلام مہدی (علیگ) سے تعلق بنا اور اُن سے تاریخ، ادب، ثقافت اور زبان پر بات چیت ہوئی اُن سے بہت کچھ سیکھا اور پھر وہ اس میدان کے ہی ہوکر رہ گئے۔ سید محمد عباس کاظمی مرحوم نے 50 سے زائد بلتی لوک گیت بشمول کیسر لوک گیت کا اُردو میں ترجمہ کرکے بلتی زبان و ثقافت اور تاریخ کو دوسروں تک منتقل کردیا جس کا بعد ازاں چین کے شہر بیجنگ میں بھی چائنیز زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ سید عباس کاظمی کا لکھا گیا ایک افسانہ ” حاجن سرکار” کو بے حد پذیرائی ملی جو ضلع گانگچھے کے شہر خپلو کی ایک معروف سماجی خاتون آپی سرکار کی زندگی پر لکھا گیا تھا جسے گلگت بلتستان کے کئی اخبارات اور جرائد میں شائع کیا گیا۔ محمد عباس کھر گرونگ کو سپر د خاک کئے ابھی عرصہ نہیں گُزرا تھا کہ بلتستان میں تاریخ و ثقافت اور زبان پر تحقیق و تحریر کے اعتبار سے انتہائی معتبر یہ شخص سید محمد عباس کاظمی بھی گزشتہ رو ز بلتستان ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے علمی و ادبی حلقوں کو سوگوار کرکے مدینتہ العلم و باب العم کے خالق و مالک کے حضور حاضری دے بیٹھے انا للہ و انا الیہ راجعون!مرحوم سید محمد عباس کاظمی نے اپنی پوری زندگی علم و ادب اور زبان ثقافت پر تحقیق اور اُسے اگلی نسل تک منتقل کرنے میں صرف کردی اور آخری لمحات میں وہ سکردو شہر میں علمی و ادبی حلقوں کو مل بیٹھ کر کام کرنے کےلئے ایک ادبی کیفے ٹیریا کے قیام کےلئے حمید گڑھ میں کمشنر بلتستان، ڈی آئی جی بلتستان، ڈی سی سکردو، ایڈیشنل ڈی سی سکردو اور اسسٹنٹ کمشنر سکردو سے ملاقاتیں کر رہے تھے مگر زندگی نے وفا نہیں کی اور نہ جانے اُن کے کتنے ادبی منصوبے نامکمل رہے ۔
رفتہ گان عہد کو یاد رکھنا چاہتا ہوں یہ ایک فرض سو نبھانا چاہتا ہوں
زندگی کے سفر میں جو ہوا حاصل رئیس زندگی کو بہ احترام لوٹا نا چاہتو ں
گلستان ادب ِ بلتستان کے پھول ایک ایک کرکے مرجھا رہے ہیں مگر ہم اُن کی حیات میں قدر کرتے ہوئے اُن سے استفادہ حاصل کرنے کے بجائے مرنے کے بعد مگرمچھ کے آنسو بہانے اور تعریفوں کے پُل باندھنے کی روِش لئے ہوئے ہیں ۔ موجودہ دور میں بلتستان کی بُزرگ علمی و ادبی شخصیات یوسف حسین آبادی، محمد حسن حسرت، حاجی فدا محمد ناشاد، غلام حسن حسنو، شاکر حسین شمیم، محمد قاسم نسیم، ڈاکٹر حسن خان اماچہ، برگیڈئیر ذاکر حسین شمیم ، احسان علی دانش، سید اسلم حسین سحر، ڈاکٹر مظفر علی انجم ، سید امجد علی زیدی اور نئی نسل میں ذیشان مہدی،رضا بیگ گھائل، فرمان علی خیال، یوسف کھسمن سمیت بہت سارے علم و ادب کے میدان میں سرگرم عمل ہیں خاص طور بُزرگ ادباء کی خدمات قابلِ صد تحسین ہیں ہمیں اِن شخصیات کی حیات میں ہی قدر کرتے ہوئے اُن سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سید محمد عباس کاظمی علمی، ادبی، تاریخی اور ثقافتی میدان میں اپنے ہم عصروں سے مدلل بحث کرتے تھے اور بڑے سے بڑے دانشور کو قائل کراتے۔ تاریخ وثقافت اور زبان و ادب میدان میں خیانت کرنے والوں اور خوشامدیوں کو آڑے ہاتھوں لینے کے عادی تھے اسی لئے انہیں ترش مزاج سمجھا جاتا تھا۔ اتحاد بین المسلمین ہی نہیں بلکہ اتحاد انسانیت کے قائل تھے عقائد میں غیر ضروری رسومات کے بھی سخت مخالف تھے ۔مرحوم بلتی رسم الخط یگے کے بھی ماہر تھے اس پر بھی انہوں نے بڑا کام کیا تھا حیات میں بے قدری کی قائل قوم کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عباس کاظمی کی قدر ہوگی بقول شاعر
مرنا والا عظیم محقق تھا
قدر مرنے کے بعد ہوتی ہے
جی ایم شجاع
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟