الحمدللہ بلتستان ڈویژن سمیت پورے پاکستان میں محرم الحرام 2022 ء کا عشرہ خاص طور پر عاشورہ محرم انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اس دوران جہاں انتظامیہ اور پولیس نے شب و روز کی محنت سے سخت حفاظتی انتظامات کیے وہیں بلتستان کے تمام مسالک کے زیرک اور فہم و فراست کے حامل علمائے کرام نے بھی بلتستان کے روایتی تشخص، بھائی چارگی ، رواداری ، بین المسالک ہم آہنگی اور پیار و محبت کے ماحول کو برقرار رکھنے میں ہمیشہ کی طرح مثالی کردار ادا کیا۔ اس موقع پر بلتستان کی سیاسی و سماجی شخصیات، صوبائی و ریجنل امن کمیٹی کے ممبران، اسکاؤٹس ، ماتمی انجمنوں اور دستوں کے کردار کو ذکر نہ کیا جانا بھی انتہائی نا مناسب ہوگا۔ ابتداء میں ضلع گانگچھے کے علاقے غواڑی میں عاشورہ محرم کے جلوس کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا تھا مگر الحمدللہ صوبائی حکومت علمائے کرام، امن کمیٹی کے ممبران، سیاسی و سماجی شخصیات کی کوششوں سے فریقین نے باہمی افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل نکال کر باشعور، باصلاحیت اور امن پسند قوم ہونے کا ثبوت دیا۔ یاد رکھیں امن ہی کسی بھی قوم اور علاقے کی تعمیر وترقی کا راز ہے اور امن ہی سے قوموں کا وقار بلند ہوتا ہے جبکہ بد امنی, فتنہ وفساد جہالت کی علامت ہے جس سے قومیں رسوا ہوا کرتیں ہیں جیساکہ رئیس امروہوی نے کہا ہے کہ
آدمی کی ہے جہاں میں آبرو صدق سے صدقے سے اور تصدیق سے
ہوگئیں رسوا جہاں میں ملتیں فرق سے فرقے سے اور تفریق سے
سبھی مسلمانوں کی نظر میں محرم الحرام ایک مقدس مہینہ ہے اس مہینے میں خاندان رسالت نے شریعت، نبوت اور رسالت بچانے کےلئے عظیم قربانیاں دیں ہیں آج اگر یہ نماز قائم ہے، حج ادا ہوتی ہے، روزے تراویح اور دیگر عبادات ادا ہوتیں ہیں تو یہ سب امام حسین اور ان کے آل و اصحاب کے مقدس لہو کا ثمر ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ان کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کرتا ہے اور ان کی یاد مناتا ہے البتہ یاد منانے کے انداز و طرہقے الگ الگ ہیں کوئی تلاوت قرآن پاک کے زریعے عقیدت کا اظہار کرتا ہے، کوئی محافل نعت و سلام کے زریعے، کوئی تبرکات و سبیل کے ذریعے تو کوئی مرثیہ، نوحہ، سینہ زنی اور ماتم داری کے زریعے۔ مسلم تو مسلم غیر مسلم بھی اس قربانی عظیم کی یاد مناتے ہوئے امام عالی مقام کو دنیا بھر میں ظلم و بربریت اور جبر واستبداد کے خلاف کلمہ حق بلند کرنے کی طاقت عطا کرنے والا امام انسانیت قرار دیتے ہیں ۔ غیر مسلم بھی داستان کرب و بلا کو عقیدت سے سنتے ہیں اور غم مناتے ہیں جیسا کہ ایک ہندو شاعر کہتے ہیں کہ
اس قدر رویا میں سن کر داستان کربلا
میں تو ہندو ہی رہا آنکھیں حسینی ہوگئیں
سنہ 61 ہجری کا یہ معرکہ حق و باطل وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ عیاں ہوتا جاتا ہے دنیا کی ظالم و جابر طاقتیں جیسے جیسے کمزوروں اور لاچاروں پر ظلم و زیادتی کرتیں ہیں مظلوم قوموں کو قربانی حسین ابن علی ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے کی طاقت و جرائت عطا کرتی ہے تب مظلوم قومیں امام حسین علیہ السلام کو اپنا محسن اور رہبر مانتے ہیں پھر ہر جگہ یا حسین یا حسین کی صدائے بلند ہوتیں ہیں
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
بحر حال امسال محرم الحرام کے دوران بلتستان انتظامیہ بالخصوص محکمہ پولیس کا کردار خراجِ تحسین پیش کرنے کے لائق رہا ہے ۔ عینی شاہد ہوں کہ ڈی آئی جی بلتستان فرخ رشید اور کمشنر بلتستان شجاع عالم محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھنے، خطے میں امن و امان قائم رکھنے، رواداری، بھائی چارگی کے ماحول کو برقرار رکھنے اور بین المسالک ہم آہنگی کو قائم رکھنے کےلئے خود بھی دن رات کوشاں رہے اور چاروں اضلاع کی انتظامیہ کو بھی متحرک رکھا۔ سکردو میں ڈپٹی کمشنر سکردو حافظ کریم داد چغتائی اور ایس ایس پی سکردو مرزا حسن راجہ، شگر میں ڈپٹی کمشنر شہر یار شیرازی ، اور ایس ایس پی حاجی عبدالروف، گانگچھے میں ڈپٹی کمشنر محمد رضا اور ایس ایس پی احمد شبیر جبکہ کھرمنگ میں ڈپٹی کمشنر محمد جعفر اور ایس ایس پی محمد ایاز اور ان کی ٹیموں کا کردار بھی لائق صد تحسین ہے انہی حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ یہ مقدس ایام پر امن طریقے سے اختتام پذیر ہوئے۔ پورا عشرہ چوبیس چوبیس گھنٹے حفاظتی فرائض انجام دینے والے بلتستان پولیس کے اہلکار یقیناً لائق صد تحسین ہیں اسی طرح ٹریفک پولیس نے ان ایام میں جہاں مجالس و جلوسوں کو متاثر ہونے نہیں دیا وہیں غیر ملکی و ملکی سیاحوں کو بھی تکالیف سے بچانے کےلئے قابل تعریف کردار ادا کیا ۔ صوبائی حکومت، پاک فوج، گلگت بلتستان اسکاؤٹس، محکمہ برقیات، محکمہ صحت، محکمہ تعمیرات، بلدیہ، ریسکیو اور دیگر اداروں نے بھی ان ایام میں مستحسن خدمات انجام دیں ہیں یقینا اپنی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کا صلہ حق تعالیٰ ضرور دے گا۔ چونکہ بلتستان کے معاشرے پر علمائے کرام کا اثر رسوخ زیادہ ہے اور ان بزرگ علمائے کرام ہی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ بلتستان کو امن ، رواداری ،بھائی چارگی، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے اعتبار سے پورے ملک میں قابلِ تقلید سمجھا جاتا ہے اس میں علامہ شیخ محمد حسن جعفری ، ڈاکٹر محمد علی جوہر ، مولانا ابراہیم خلیل سمیت دیگر کا کلیدی کردار رہا ہے۔ عاشورہ محرم الحرام 2022ء کے دوران جماعت اہلسنت بلتستان کی طرف سے عزاداروں کےلئے فری میڈیکل کیمپ لگانے کے ساتھ تبرکات کا بھی اہتمام کیا گیا تھا اسی طرح غواڑی میں مسلک اہلحدیث کے جوانوں نے جلوس میں شرکت کی اور سبیل لگایا ساتھ میں بزرگان جلوس کے اختتام پر مسجد امام علی رضا میں علماء کرام اور انتظامی زمہ داران کے ہمراہ تبرکات کےلئے شامل ہوئے ایسے ہی اقدامات گانچھے اور شگر میں بھی کئے گئے ان اقدامات سے خطے میں امن و امان اور رواداری کو مزید فروغ ملا ہے۔ یاد رکھیں شر انگیزی پھیلانے والے بہت قلیل تعداد جبکہ رواداری قائم کرنے والے کثیر تعداد میں ہیں مگر امن پسند اکثریت کی خاموشی سے قلیل تعداد میں موجود شرپسندوں نے ہمیشہ غلط فائیدہ اٹھایا ہے ۔
جی ایم شجاع
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟