گلگت بلتستان کی سطح پر پاک فوج کی طرف خصوصا ضلع دیامر کے لئے تعلمی جرگوں کے زریعے سے عوام میں تعلیم کے حوالے سے جو آگاہی مہم کا آغاز کیا گیا تھا اس کی ثمرات اب براہ راست عوام منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے۔
پاک فوج کی طرف سے پہلے ہی ضلع دیامر کے دور دراز علاقوں میں جہاں تعلیمی پسماندگی زیادہ تھی وہاں تک پاک فوج نے رسائی حاصل کرکے نہ صرف وہاں کے تعلیمی مسائل کو اجاگر کیا بلکہ عملی اقدامات بھی اٹھا دئیے۔
سابق فورس کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل احسان محمود نے تعلیمی جرگوں کا آغاز کیا تھا اسے موجودہ فورس کمانڈر میجر جنرل جواد احمد نے جاری رکھا ہے جس کی وجہ سے ضلع دیامر سے تعلیمی پسماندگی دور کرنے اور تعلیمی اداروں میں مزید بہتری میں مدد ملی ہے۔
سونے پے سہاگہ پاک فوج کے ساتھ اس اہم اقدام میں پاکستان کے مستقبل کو روشن کرنے لئے کوشاں ادارہ واپڈا بھی اس اہم کام میں پاک فوج اور دیامر کے عوام کے شامل بشانہ ہے ۔
واپڈا کا شمار پاکستان کے بہترین منافع بخش اداروں میں ہے چیئرمین واپڈا جنرل ریٹائرڈ سید مزمل حسین کی قیادت میں واپڈا پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کے لئے اور پانی میں پانی کی کمی دور کرنے کے لئے واپڈا جہاں ایک طرف دیامر بھاشا ڈیم سمیت ملک بھر میں ڈیموں پر کام کر رہی ہے وہی پراجیکٹ ایریا کے لوگوں کے لئے اعتماد سازی کے منصوبوں کے زریعے لوگوں کی سماجی زندگی میں بہتری کے لئے بھی اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کررہی ہے جس میں تعلیم سر فہرست ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے جہاں پاکستان کا روشن مستقبل وابستہ ہے وہی مقامی لوگوں کے لئے ترقی اور خوشحالی کے دروازے بھی کھلے ہے۔
واپڈا نے اعتماد سازی کے منصوبوں کے زریعے اپنی تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے پاک فوج کی تعاون سے ضلع دیامر کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ کیڈیٹ کالج کا منصوبہ شروع کیا جو کہ نوے فیصد تک کام مکمل ہوا باقی کام بھی اگلے کچھ مہینوں میں مکمل ہوگا جس کے بعد باقاعدہ درس و تدریس کا عمل شروع ہوگا اس سے ضلع دیامر کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ اور خواہش پوری ہوئی ہے۔
اسی طرح گلگت بلتستان اور ضلع دیامر کا گیٹ وے تھور کی عوام کی مطالبے اور خواہش پر واپڈا کالونی تھور میں تعمیر شدہ سکول کو پاک فوج کے حوالہ کرکے آرمی پبلک سکول تھور کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی باقاعدہ افتتاح ہوچکا ہے اگکے چند دنوں میں کلاسز کا آغاز ہوگا۔
واپڈا ماڈل ویلج میں بھی ہائی سکول، پرائمری سکول اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔
جبکہ اعتماد سازی کے منصوبوں کے تحت علاقے کی عوام کی سماجی ندگی کو بہتر بنانے کے لئے مزید 75 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا جس میں بھی تعلیم کا شعبہ سر فہرست ہے۔
جنرل منیجر واپڈا لینڈ اینڈ ایکوزیشن اینڈ ہیومن ریسورسز بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد شعیب تقی،کمشنر دیامر استور ڈویژن دلدار ملک ،کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد،پراجیکٹ ڈائیریکٹر واپڈا دیامر بھاشہ ڈیم انجینئر راؤ محمد یوسف، ڈائریکٹر کورڈینشن واپڈا رحیم شاہ اور فورس کمانڈر میجر جنرل جواد احمد کی علم دوست پالیسیوں اور کاوشوں کی بدولت ضلع دیامر میں تعلیم اب عوام کے دہلیز پر میسر ہے۔
ایک طرف کیڈٹ کالج دوسری طرف آرمی پبلک سکولز اور پہلے سے موجود سرکاری سکولوں کی اپ گریڈیشن سے دیامر کی روشن مستقبل کی نوید ہے۔
تحریر۔عمرن اللہ مشعل
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟