بلتستان رینج خاص طور پر شہر سکردو میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات نے ہر طبقہ فکر کو پریشان کئے رکھا ہے ۔ چونکہ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا قیام اور جگلوٹ سکردو روڈ کی تعمیر کے باعث بلتستان میں ٹریفک کا بے ہنگم رش کا ہونا یقینی سی بات ہے اور یہ رش موسم گرما کے شروع ہوتے ہی تین گُنا بڑھ جائے گا کیونکہ ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد کا آغاز ہونے والا ہے ۔ وفاقی حکومت خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی توجہ کے باعث سکردو شہر سیاحت کا حب بننے جارہاہے اسی وجہ سے ملکی و بین الاقوامی تاجر بھی یہاں کاروبار خاص طور پر ہوٹلنگ پر خاص توجہ دے رہے ہیں صورتحال یہ ہے کہ اب تعمیرات کے لئے زمین کم ہوتی جارہی ہے ۔ ماضی میں مستقبل کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کے تحت تعمیرات نہ کرنے سے سڑکیں انتہائی تنگ ہوتی جارہی ہیں جبکہ کہیں بھی پارکنگ کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک کاکنٹرول دن بدن مشکل ہوتا جارہاہے جبکہ گلگت بلتستان پولیس میں ٹریفک کی الگ یونٹ کے نہ ہونے کے باعث اضلاع کی بہت کم نفری اور محدود وسائل سے ہی ٹریفک کے معاملات چلائے جارہے ہیں ۔ ضلع سکردو چونکہ بلتستان رینج کا ہیڈ کوارٹر ہے اور شہر سکردو کی ہی سڑکوں سے دیگر تین اضلاع کے لئے ٹریفک چلتی ہیں جبکہ بلتستان سرحدی علاقہ جات کا حامل ہونے کے ناطے شاہراہ سکردو کو عسکری شاہراہ بھی کہاجاتا ہے اور یہاں سے عسکری ٹریفک بھی خاصی تعداد میں رواں دواں رہتی ہے ۔ محکمہ پولیس کی بات کی جائے تو بلتستان پولیس قلیل افرادی قوت اور محدود وسائل کے ساتھ قانون پر عملداری ، جرائم کے سدباب، منشیات کے روک تھام اور ٹریفک کے نظام کی بہتری کے لئے پوری طرح کوشاں ہیں جس کا برملا اعتراف عوامی حلقوں کی طرف سے پرنٹ میڈیا اورسوشل میڈیا کے زریعے کیاجاتا رہاہے ۔ ڈی آئی جی بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک بلتستان رینج میں اپنے تبادلے کے اول دن سے ہی اِن امور پر خصوصی توجہ دئے ہوئے ہیں اس سلسلے میں علماء کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، تاجر تنظیموں اور حکومتی ذمہ داروں سے مشاورت بھی کرتے رہے ہیں اور اُنہی کی ہدایات پر پورے رینج میں آگاہی مہم بھی کافی عرصہ تک چلائی گئی ۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں شعور کا فقدان ہے اور لوگ قانون پر عملداری اور ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لئے تیار نہیں بلکہ پولیس کی طرف سے ٹریفک قوانین پر عملداری کی کوشش کو معزز شہریوں کی توہین و تذلیل سے تشبیہ دی جاتی ہے جس کا نتیجہ قیمتی انسانی جانوں کا سڑکوں پر تڑپتے ضیاع کی صورت میں ملتا ہے ۔ والدین اپنے انتہائی کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل اور گاڑی تھما دیتے ہیں دوسری طرف خود کو معزز شہری اور اعلیٰ تعلیم یافتہ کہنے والے افراد بھی بھیج سڑک گاڑی اور موٹر سائیکل کھڑی کرکے موبائل پر لمبی گفتگو کرتے ہیں اگر کوئی ایمرجنسی موبائل ہارن دے تو بھی جگہ دینے کے بجائے ہارن کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے لڑنے لگتے ہیں ۔ موٹر سائیکل پر تین تین چار چار سوار ہونا لوڈڈ گاڑیوں پر حد سے زیادہ سامان اور افراد کا بٹھانا تو معمول کی بات ہے ۔ مختصراََ یہ کہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور حادثات سے بچنے کے لئے بُنیادی طور پر لوگوں میں شعور کا انا بہت ضروری ہے باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ماں باپ کا گیارہ اور بارہ سالہ بچوں کو موٹر سائیکل تھما کے حادثے کی صورت میں پولیس کو موردِ الزم ٹھہرانا معاشرے میں شعور کا فقدان نہیں تو اور کیا ہوسکتا ہے رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر بیٹھے خود ساختہ فلاسفر ہیں جو بلا تحقیق تنقید اور الزامات کو اپنی دانشوری سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انے والے وقتوں میں بلتستان میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد سے ٹریفک کا رش اس قدر بڑھ جائے گا جسے سنبھالنا بہت مشکل ہوگا اور صورت حال یہی رہی تو ٹریفک حادثات میں بھی اضافہ ممکن ہے ۔ حکومت، سول انتظامیہ اور محکمہ پولیس کو مل بیٹھ کر حکمت عملی طے کرنی ہوگی اور عوام کو باشعور شہری کی طرح پولیس سے بھر پور تعاون کرنا ہوگا ۔ سکردو کے سیاحتی حب اور انٹرنیشنل سٹی بننے کے بعد مستقبل میں ٹریفک کے مؤثر نظام کو یقینی بنانے کے لئے شہر میں کارپارکنگ کا قیام، زیر غور متبادل شاہراہ (بائی پاس) کی تعمیر، ایس ایس پی کی سربراہی میں الگ ٹریفک پولیس یونٹ کی منظوری، ٹریفک پولیس کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ وسائل کی فراہمی اور تربیت بہت ضروری ہے اس کے بغیر بہتری کی توقعات خود کو دھوکہ دینا ہوگا ۔ بلتستان سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران کو صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے بروقت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ایک خوش آئیند بات یہ ہے کہ علمائے دین اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں تمام مسالک کے علماء کرام جمعہ کے خطبات اور دیگر عوامی اجتماعات میں عوام کو آگاہی دینے کے ساتھ حکومت اور انتظامیہ کو بھی مشورے دیتے رہتے ہیں ۔ اگر معاشرے کا ہر طبقہ اسی طرح کردار اداکرتے رہے اور اپنے حصے کی شمع جلاتے رہے تو ہم حادثات کو روکتے ہوئے انسانی جانوں کو بچانے میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں جوکہ ہم سب کا دینی، معاشرتی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے ۔
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
تحریر جی ایم شجاع
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟