سکردو (پریس ریلیز) مرکزی جامع سکردو میں مرکزی خطبہ صدر انجمن امامیہ بلتستان سید باقر الحسینی نے دیا دوران خطبہ کہا گلگت بلتستان میں کویی خالصہ نہی دریا سے لیکر پہاڑ کی چوٹی تک عوام کی ملکیتی زمین ہے ہم نے حکومت کو کہا انتقال کرنے کے لیے اسی فیصد عوام کے لیے بیس فیصد حکومت کو سکول کالج بنانے کے لیے اگر اس پر عمل نہی کیا تو 1 انچ نہی دے گا ہم بے غیرت ہے تمہارے ہاتھ میں ڈنڈا ہے تو ہمارے ہاتھ میں پتھر ہے دفعہ 144 ڈرامہ ہے کرنا ہے تو SSR بحال کرو پاکستان کے سرمایہ داروں کو دلالی مت کرو ایک مقتدر محکمہ سیکورٹی کے نام پر عوام کو تنگ کررہا ہے تم لوگ سرحد کی حفاظت کرو سرحد ان کے حوالے کرکے شہر میں تمہارا کیا کام ہے سرحد سنبھالو مقتدر حلقہ عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے. عبوری صوبہ بنا نہیں سیٹ کا جھگڑا سمجھ سے بالاتر ہے. کینسر ہونے والا گندم پر حکومت خاموش گندم کے مسلے کو حل کرو میدہ کا کینسر کا گندم بن رہا ہے ڈاکڑ اور DHO اس پر اپنا موقف دو کرناٹک ہندوستان میں حجاب کے معاملے پر انڈیا کی مذمت کرتے ہیں. عوام احتجاج کے لیے تیار ہے ہماری ایک کال کی منتاظر ہے جلد از جلد مسلہ حل کرو عوام جاگ چکا پرانا وقت ختم ہوچکا. دنیا اج انقلاب اسلامی ایران اور خمینی کو رول ماڈل مان رہا ہے کیونکہ ہمارا مکتب ہمیشہ ظالم کے خلاف برسرکار پیکار ہے یہی ہمارا ایمان ہے.
گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے. سید باقر الحسینی کا سکردو میں مرکزی خطبہ جمعہ سے خطاب.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا