سکردو(ٹی این این) سکردو 2007 سے اب تک ضلعی انتظامیہ کے پاس ایک ارب سے زائد رقم زمینوں کے معاوضوں کی مد میں ہونے کا انکشاف زرائع کا کہنا ہے کہ سیکرٹری تعمیرات نے رپورٹ طلب کر رکھا ہے آج کا یہ اجلاس اسی سلسلے کی کڑی ہے تفصیلات کے مطابق
سیکرٹری محکمہ تعمیرات عامہ کی ہدایت پر ایگزیکٹو انجینئر سکردو کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ہذا کے تمام زمہ داروں نے شرکت کی جس میں مختلف جاری ترقیاتی سکیموں اور معاوضوں کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی جس میں مختلف زیر امور زیر بحث آئے یاد رہے کہ چند ایک محکمہ کی کوتاہی کچھ کورٹ کچہری میں جبکہ زیادہ تر بروقت معاوضے کی ادائیگی میں بلا جواز تاخیر کی وجہ سے التواء کا شکار رہتا ہے لوگوں کے جوتے پھٹ جاتے ہیں لیکن زمینوں کا معاوضہ کئی کئی سالوں تک متاثرین کو وصول نہیں ہوتا عوامی حلقوں نے ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت عدم تکمیل علاقے کے ساتھ سراسر زیادتی قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے علاقہ دشمن آفیسرز کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے ستم ظریفی یہ ہے کہ بھاری بھرکم تنخواہ اور مراعات لینے کے باوجود سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے اب تو ظلم کی انتہا ہے کہ سائل ہفتوں تک ڈپٹی کمشنر کی راہ تکتے تکتے نامراد واپس لوٹ جاتے ہیں جب ضلعی انتظامیہ کے زمہ داران کی یہ حالت ہے تو دوسرے سرکاری اداروں کی بات ہی نہیں ہے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کو چاہیے کہ سرکاری اداروں کے اہم زمہ داران کی قبلہ درست کریں ورنہ عوام بیوروکریسی کی بے رخی کے سبب ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے.
سکردو ضلعی انتظامیہ کے پاس زمینوں کے معاوضوں کی مد اخر کتنا رقم موجود ہے 2007 سے لیکر اب تک تحریر نیوز کی تہلکہ خیز انکشاف
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا