سکردو(ٹی این این ) ایف ڈبلیو او کے ترجمان نے کہا کہ 164 کلومیٹر اس روڈ پر پہلی دفعہ یا صرف اس جگہ پر بلاسٹنگ نہیں ھوا ہے اور نہ ہی ایف ڈبلیو او نے پہلی بار اس علاقے میں روڈ بنایا ہے ایف ڈبلیو او 1966 سے اس روڈ پر ہے ملک کے اندر اور باہر روڈ بناتے ہیں اس علاقے کے زمین کے خدوخال اور ساخت سے اچھی طرح واقف ہیں اگر ناقص کام ھوا ھوتا تو اسکے اثرات 164 کلومیٹر کے مکمل پٹی پر ھوتا حالیہ زلزلہ اور اس کے افٹر شاکس سے سب سے زیادہ متاثر ھونے والا ایریا یہی پٹی ہے روندو میں 2500 سے زائد گھر تباہ ھوئے ھیں 4000 گھروں کو نقصان پہنچا ہے اس ایریے میں تمام رابطہ سڑکیں بری طرح متاثر ھوئے ھیں 5.33 ریکٹر اسکیل کا زلزلہ تھا پھر اسی رات 00 45 بجے دوبارہ اسی سکیل کا زلزلہ آیا تھا ہفتہ تک اسکے افٹر شاکس جاری رہے تھے کیا ان جگہوں پر ناقص کام ھوئے تھے اپنا گھر بار کوئی بھی ناقص نہیں بناتے ہیں اس زلزلے کے نتجے میں جوکہ آسمانی اور زمینی دونوں کا مرکب تھا یہ جگہ بھی متاثر ہوا ھوگا اور پھر بارش اور برف باری کی وجہ اونچائی سے پتھر کے سلائیڈ کی وجہ سے یہ بھی اپنی جگہ سے سرک گیا پہاڑی ایریا میں ترچھی ڈھلوانوں کی وجہ سے ایک پتھر بھی بلندی سے لڑھکتا ہے تو وہ سلائیڈ بن جاتا ہے کیونکہ یہ اردگرد کے چٹانوں کو اپنے ساتھ لیکر چلتا ہے اور فورس کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط ڈھانچہ بھی متاثر ھوئے بغیر رہ نہیں سکتا گنجی میں کوئی بلاسٹنگ نہیں ھوا تھا پتھر لگنے سے بجلی گھر کے عمارت مکمل طور پر تباہ ھوا ہے اسطرح کا زلزلہ اسی پٹی پر انہی ایام میں 2019 /20 میں بھی آیا تھا اور اسکے افٹرشاکس 3 ماہ تک جاری رہے تھے انجنیئرنگ رول کے مطابق کم از کم دو سال تک سلائیڈ آتے رہیں گے زلزلہ نہ بھی آیا تو 2 سال تک سلائیڈ آتے رہیں گے جب قدرتی ساخت ڈسٹرپ ھوتا ہے تو ظاہری بات ہے گرفت ساخت اور خدوخال پر اسکا اثر ھوتے ہیں شاہراہ قراقرم پر 4 جگہوں پر اس سے بڑے سلائیڈ گرے ہیں جبکہ وہاں زلزلہ نہیں آیا صرف بارش کی وجہ سے گرے ہیں اعلی کوالٹی کے کام کے لیے یا تو اعلی درجہ کا رقم چاہیئے یا کوئی معجزہ ھوجائے کہ بغیر بلاسٹنگ کے روڈ بن جائے دونوں ناممکن ہے فری سلائیڈ زون بنانے کے لیے دریا سندھ کے اوپر سے میٹرو بنا کر میٹرو بس سروس شروع کرنا ھوگا اگر رقم ھو تو میٹرو یا بولٹ ٹرین بھی چل سکتا ہے۔ ایبٹ آباد سے تھاکوٹ تک موجودہ ایکسپریس وے بنا ہے یہ فاصلہ تقربیا 158 کلومیٹر ہے اس کے لیے 133 ارب روپے تھا جبکہ اس راستے میں کوئی سنگلاخ پہاڑی بھی نہیں ہیں جبکہ 164 کلومیٹر کی مشکل ترین روڈ کے لیے صرف 31 ارب ہے اور یہ ٹھیکہ بھی 2017/16 میں ھوا تھا اس وقت کے اور آج کے ریٹ کا بھی موازنہ کریں۔ ٹھیکہ میں ہر چیز کا ذکر ہیں ایسے قومی نوعیت کے سیٹریجک پروجکٹ سے پیسہ بچایا نہیں جاتا لگایا جاتا ہے اگر سہولیات پیسہ اور ذرائع ھوتے تو مری میں 22 انسانوں کی جانیں نہ جاتی۔ پیسہ ھو تو سب کچھ ممکن ہے
گلگت سکردو روڈ قومی نوعیت کا اہم پروجیکٹ: حالیہ زلزلے کے دوران اس کا نتائج عوام کے سامنے ہیں : لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے بھی FWO نے اپنا سخت موقف دے دیا: تفصیلات کیلئے تحریر نیوز کا لنک کلک کریں
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا