ڈالر اوپر جارہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ پہ ریکارڈ بنا رہی ہیں۔دووقت کے کھانے کی فکر غریب کے دل و دماغ کو کھائے جارہی ہے۔ ادویات مہنگی’ زندگی سستی ہورہی ہے۔ اسی کشمکش میں کوئی سفید پوش اگر حاکم وقت کی طرف دیکھے تو صاحب مسکراکر مخاطب ہوتے ہیں: کہ میرے اقتدار میں آنے کا مقصد ہی غریب طبقے کو غربت کی لکیر سے اوپر لیکر جانا تھا۔میں وہی تو کر رہا ہوں۔ بس اب آپ نے گھبرانا نہیں ہے کیوں کہ سکون تو صرف قبر میں ہے۔ پھر سفید پوش کو ساری کہانی کی سمجھ لگ جاتی ہے کہ واقعی خان صاحب نہ صرف ایمانداری میں بے مثل ہیں بلکہ جھوٹ بھی نہیں بولتے۔ وہ اہنے وعدے کے عین مطابق غریب طبقے کو اوپر
پہنچانے کے مشن پہ عمل پیرا ہیں-
عجیب اور بہت عجیب مرحلہ ہے کہ اس ملک میں غریب، غریب ترین ہوتا چلا جا رہا ہے اور امیر مزید امیر ترین۔ طبقاتی تقسیم خطرناک حد تک بڑھتی چلی جا رہی ہے جو نظام کی آخری بربادی کی پہلی دلیل ہے۔ہمارا وزیر اعظم اب بھی مطمئن ہے۔اسے لگتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے تو سارا نظام ٹھیک ہوجائے گا حالانکہ اس کی ناک کے نیچے وزراء کیا گل کھلارہے ہیں’ بخوبی واقف ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے اپنے حالات ٹھیک ہیں تو غریبوں کا گزر بسر بھی ٹھیک ہورہا ہوگا حالانکہ غریب دووقت کی روٹی مہیا کرنے سے قاصر ہوکر اپنی سگی اولاد کو کبھی اپنے ہاتھوں گلہ دبا کرقتل کرتا ہے تو کبھی پھول جیسے معصوم بچوں کو سگی ماں دریابرد کرنے پہ مجبور دکھائی دیتی ہے۔
تین سال گزر گئے نئے پاکستان کی بنیاد رکھے ہوئے۔۔انہی تین سالوں میں آٹے کی قیمت میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا۔ دالیں ‘ سبزی ‘ پھل فروٹ سب غریب کی پہنچ سے کوسوں دور چلے گئے ۔اپوزیشن کو کرپشن کے پیسے بچانے سے فرصت نہیں اور مقتدر اداروں کے لئے شاید محض اس طرح کے عوامی مفادات کے معاملات میں ہی آئینی دائرہ کار میں رہنے جیسی مجبوریاں پاوں کی زنجیر بنتی ہیں۔وگرنہ کیا کچھ نہیں ہوتا۔
ڈالر کی اونچی اڑان کا سوال کرو تو جواب ملتا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے ڈالر کی قیمتوں کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیا تھا جبکہ ہم نے ملکی معیشیت کے وسیع تر مفاد میں ڈالر کو بے لگام چھوڑ دیا ہے تاکہ وہ روپیہ کو اس کی اصل اوقات یاد دلائے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا زکر کرو تو فوراً سے پہلے بتادیتے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ کرایا جائے تو اب بھی سستا ہے۔ مطلب اگر کل کو ڈالر 250 روپیہ کا ہوجائے ( جس طرح کے حالات جارہے ہیں کوئی بعید نہیں ہو بھی جائے گا) تو یہ لوگ ایک لیٹر پیٹرول 250 سے زائد قیمت پہ بیچیں گے اور کہیں گے کہ ایک لیٹر پیٹرول ایک ڈالر میں دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ملتا۔ ایسے میں انہیں کون بتائے ایسا بوسیدہ نظام اور ایسے بے حس ‘ نااہل اور ناسمجھ حکمران بھی دنیا کے کسی کونے میں نہیں ملتے۔
حکومت وقت کی پوری کارکردگی یہی ہے کہ انہوں نے میاں صاحب کو بھگایا اور زرداری کو بھاگنے نہیں دیا۔ اپوزیشن سے آمدن سے زائد اثاثوں جیسے سوالات کرنا ان کا نصب العین اور یہی بیانیہ غریب کے سامنے رکھ کر اپنا گزارہ کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے مگر اب اس ٹرک کی بتی کے پیچھے غریب اس لئے بھی زیادہ دیر نہیں بھاگے گا کہ آنکھیں بند کرکے ” ٹرک” کے پیچھے بھاگتے بھاگتے غریب کی ” بس”ہوگئ ہے۔ اب کی بار غربت کا مارا خود کو ان کے سامنے پیش کرکے کہے گا کہ” تو چھوڑ۔ آمدن سے زائد اثاثے والوں کو۔ ادھر آ۔۔!! مجھ سے پوچھ!!! بنیادی ضروریات سے کم آمدنی میں کیسے گزارہ کررہا ہو۔۔!! تو مجھ سے سوال کر یہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر تجھ غریب کے بچے نئے پاکستان کے پررونق ماحول کو آلودہ کرنے کی جرات کس حیثیت میں کر رہے ہیں۔ دوائیں خریدنے سے تمہیں قاصر کردیا۔ دال روٹی اور صاف پانی تک تمہیں میسر نہیں ۔ڈالر 170 پیٹرول 123 پہ پہنچادیا۔ اور تو بے شرم ابھی تک اوپر نہیں پہنچا۔شاید تمہیں سکون راس نہیں آتا۔ کہیں تم ان چند لوگوں میں سے تو نہیں ہے جنہیں ہم نے سرکاری لنگر خانوں میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے رکھا ہوا ہے۔ پھر تو میرے جواب سن۔اگر میرے بددعاوں سے بھرے جوابات آپ کو شرم سے پانی پانی نہ کردیں تو میں بھی مانوں کہ تم صرف ڈھیٹ نہیں بلکہ اخیر ڈھیٹ ہو۔
ازقلم: ایڈوکیٹ حیدرسلطان
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟