امید زندہ ہے۔

0 0

گزشتہ کئے برسوں سے دیامر بھاشا ڈیم کا کام جہاں حکومتوں کی غلط پالیسیوں کیوجہ سے معطل رہا وہاں مقامی قبائل کی آپس میں چپقلش اور دیگر تنازعات کی وجہ سے سست روی کا شکار رہا جس سے یہ ناامیدی پیدا ہوئی تھی کہ کبھی ہم پاکستان میں کوئی بڑی ڈیم کی تعمیر مکمل ہوتا ہوا دیکھ سکے۔

 

اللہ بھلا کریں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب کا انہوں نے پاکستان میں پانی کی کمی سے متعلق سوموٹو نوٹس لیا وہی دیامر بھاشا ڈیم کا معاملہ بھی آیا تب انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم عملدرآمد بنچ بھی تشکیل دیا جو اب تک موجود ہے اور عوامی سطح پر ڈیم سے متعلق عوامی آگاہی کے لئے ڈیم فنڈ کا بھی اجرا کیا جس میں اندرون بیرون ملک مقیم ہر پاکستانی نے اپنی استطاعت کے مطابق ڈیم فنڈ میں چندہ دیا جبکہ سرکاری ملازمین کے تنخواہوں سے بھی ڈیم فنڈ کے لئے پیسے کاٹے گئے یہ سب کا مقصد ڈیم کے حوالے سے عوامی آگاہی تھی ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کے ساتھ مہمنڈ ڈیم کا بھی تعمیراتی کام میں تیزی لائی وہ تمام منصوبے جو التوا شکار کا شکار تھے سب پر دوبارہ کام کا آغاز ہوا دونوں ڈیموں کا باقائدہ کام کے لیے ٹنڈرنگ کے بعد چائنیز اور متمختلف پاکستانی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا گیا جس پر اب تیزی سے عملی کام کا آغاز ہوا ہے۔

ان سب معاملات میں اگر کچھ شخصیات کی زکر نہ کی جائیں تو یہ انکے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ شخصیات ہی اداروں کو اپنے اعلی صلاحتیوں کے بل بوتے پڑوان چڑھاتے ہے۔

جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیر اعظم عمران نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں زاتی دلچسپی لیا وہی چیئرمین واپڈا نے وفاقی سطح پر وزیراعظم کی بھرپور معاونت کی اور ڈیم کے حوالے سے خصوصا دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے جنرل منیجر لینڈ اینڈ ایکوزیشن بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمد شعیب تقی صاحب نے چئرمین واپڈا کے معاونت کے ساتھ دیامر بھاشا ڈیم کے مقامی جتنے ایشوز تھے چاہے وہ قبائلی تنازعات ہو ری سیٹلمنٹ ہو گریجویٹ الائنس دیامر کا مسلہ ہو مسنگ چولہا کا ایشو ہو سب میں کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم لفٹننٹ ریٹائرڈ سعد بن اسد کے تعاون اور پراجیکٹ ڈائریکٹر دیامر بھاشا ڈیم راؤ محمد یوسف کے ساتھ انتہائی خوش اسلوبی سے انجام تک پہنچا دیا۔

کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد نے مقامی سطح کے تمام مسائل پر متاثرین کو اعتماد میں لیا اور جی ایم واپڈا شعیب تقی کے ساتھ ملکر اعلی حکام تک پہنچایا جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر راؤ محمد یوسف نے تعمیراتی کام میں تیزی لائی انکے بہترین سپرویژن میں دیامر بھاشا دیم کا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

 

دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیر کے سلسلے میں ایک اہم بھیٹک رواں ماہ واپڈا ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں جنرل منیجر واپڈا شعیب تقی اور کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد کے طرف سے دیامر کے تمام سٹیک ہولڈرز جس میں علما کرام عمائدین متاثرین کے نمائندے سیاسی و سماجی قیادت اور یوتھ کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔

 

اس اہم بیٹھک کا مقصد دیامر کے جملہِ عوام کو دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے اعتماد میں لینا تھا جس کے وجہ سے پوری دیامر کی جموعی نمائندگی تھی شامل تھی ۔

 

میٹنگ کے چار اہم ایجنڈے تھے جس میں 1.ریسٹلمنٹ

2.ایمپلائمنٹ

3.سی بی ایم سکیمیں

4۔سکیوریٹی ایشوز

 

جس پر جی ایم واپڈا نے دیامر کے وفد کو بریفںنگ دی اور وفد کے طرف سے مشترکہ قرارداد کے زریعے اپنے مطالبات پیش کئے گئے۔

 

اپنی نوعیت کی انتہائی غیر معمولی اس اجلاس کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ پہلی بار دیامر کے تمام قبائل ایک پیج ہے تھے اور سب نے اکٹھا مشترکہ قرارداد پیش کی اور سب سے اہم وجہ یہ بھی تھی کہ دیامر کے تمام قبائل نے مجموعی طور پر پاکستان مخالف قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ دیامر کے عوام پاکستان کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے اور دیامر بھاشا ڈیم کے لئے ہر قسم کی قربانیوں سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

 

شو مئی قسمت اس اہم میٹنگ میں نشینل میڈیا موجود نہیں تھی ورنہ یہ بہت بڑا پیغام جاتا اور سب کو پتہ چل جاتا کہ دیامر عوام نے ڈیم کے لئے کتنی قربانیاں دی ہے اور مزید بھی قربانیوں کے لئے تیار ہے۔

 

 

اس اہم میٹنگ کی انعقاد میں پرائیویٹ سیکرٹری ٹو جی ایم واپڈا احمد حسین کلکٹر دیامر بھاشا ڈیم سعد بن اسد ڈائریکٹر کورڈینیشن واپڈا محمد شفیق اور ڈائریکٹر ٹرائبل سپیشلسٹ رحیم شاہ کی کاوشیں شامل ہے۔

 

اب دیامر بھاشا ڈیم کا باقائدہ عملی کام کا آغاز ہوچکا ہے متاثرین واپڈا اور انتظامیہ کے اقدامات سے مطمئن ہے اور زیادہ تر تنازعات کا بھی خاتمہ ہوچکا ہے اسلئے یہ امید ایک پھر سے روشن ہوگئ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر مکمل ہوتے ہے دیکھ سکیں گے اور یہ ڈیم پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے سنگ میل ثابت ہوگی ۔

 

 

 

تحریر !عمران اللہ مشعل

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website