سکردو(پ ر) بی ایس ایف بلتستان ڈویزن کے صدر قمر نجمی نے اپنی ایک بیان میں کہا کہہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے وزرا کو بلتستان کے مسائل سے کو دلچسپی نہیں نا عام عوام اور نوجوانوں کی مشکلات سے آگاہ ہے۔ بلتستان سے وزرا کے فوج ہونے باوجود کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی، تعلیم ،سیاحت ، تعمیرات اور ماحول کے وزیر بلتستان سے ہے لیکن تمام شعبہ جات تنزلی کی طرف جارہے ہے۔ ڈویزنل صدر کا مزید کہنا تھا کہہ کے ٹو کے دامن میں بننے والی مونیٹرنگ سکول کا شیگر میں نہیں بننا انکی قوم کیساتھ مخلصی کا اندازہ ہوا ہے۔ سیاحت کے لیے کوئی پلان نظر آیا نا نوجوانوں کے لیے کوئی منصوبہ، داخلہ پالیسی اور سکولوں میں سہولیات جوں کے توں ہے ۔ انکا کوئی پرسان حال نہیں۔ کالجوں کی حالت اور ٹیچنگ سٹاف کی کمی پورا کرنے کے لیے بھی کوئی میکنیزم موجود نہیں ۔ صحت پورے بلتستان میں ایک کاروبار بن چکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کوئی سہولت میسر نہیں۔صحت کی مد میں بلتستان ریجن کو فنڈ آٹے میں نمک کے برابر مل رہے یے لیکن ہمارے وزرا فنڈ بڑھانے کے لیے کوشش کرنے کی بجائے فوٹو سیشن میں مصروف ہے۔ 60 ، 40 کی ریشو بھی بلتستان ریجن کو نہیں مل رہا غریب عوام کی زندگی روز بروز مشکلات میں گر رہے ہے
نااہل وزراء مانیٹیرنگ سکول کو شگر سے گلگت ریجن لئے جانے کے صورت میں بی ایس ایف شدید احتجاجی مظاہرہ کرینگے قمر نجمی
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا