مہر زہری ہلچنگرا

0 0

کھرمنگ باغیچہ سے تعلق رکھنے والے علی داد جو نے راجہ کھرمنگ کے ساتھ اپنی دوستی کی لاج رکھی اور وفا کی انتہا کردی ، اس نے مقتول راجہ کھرمنگ سعادت خان کے بیٹوں کو فاتح بدھسٹ لاما چوپا کالون سے چھپا لیا ، بڑے بیٹے اعظم خان کو گداگر کے روپ میں کرگل روانہ کیا جبکہ چھوٹے بیٹے شاہ نواز کو اپنے گھر میں چھپا کر اپنے حقیقی بیٹے کو شاہ نواز بنا کے فاتح بادشاہ کالون کے سامنے کر دیا جس نے بڑی بیدردی سے اسے قتل کر دیا ، یوں علی داد جو نے اپنے بیٹے کی قربانی دے کر والئ کرتخشہ کے ننھے فرزند کو بچا لیا۔۔۔ جی ہاں جب انٹھوک کھر پہ بدھسٹ راجہ کالون لامہ چو نے قبضہ کیا اور سعادت خان اور اس کے بیٹوں کو قتل کر کے قتل عام شروع کی تو محل میں کہرام مچ گیا ، اس خاندان میں ایک پردہ نشین اور تہجد گذار نوجوان لڑکی بھی تھی جس کا نام مہر زہرا بتایا جاتا ہے ، مہر زہرا نے جب محل کو بدھسٹ فوجوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتے دیکھا تو محل کی چھت پہ چڑھ کے دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی عزت و آبرو بچانے کے لیے جان دینے کا فیصلہ کیا ، اس نے نماز کے بعد ایک چیخ ماری اور ہزاروں فٹ اونچے ٹیلے سے دریاے سندھ میں چھلانگ لگا دی۔ لوگوں نے اسے ہوا میں اچھلتے تو دیکھا مگر زمین پہ گرتے کسی نے نہیں دیکھا نہ ہی اس کی لاش ملی، کچھ سال بعد جب مقتول راجہ کے بیٹے اعظم خان نے طبیب بن کے اسی محل میں گھس کر اپنے باپ کے قاتلوں کو قتل کر کے محل پر دوبارہ قبضہ کیا اور اپنی حکومت قائم کی تو پرانے دستور کے مطابق دلتت نامی پہاڑی پہ اپنے مصاحبین کیساتھ گئیے تاکہ شدید گرمی کے موسم میں کچھ دن اس پر فضا مقام پر رقص و سرود کی محفل سجا کے گذار لیں ، جیسے ہی وہ لوگ اس مخصوص جگے پہ پہنچے جہاں پچھلے دور میں موسیقی کی محفل سجتی تھی ، وہاں انہوں نے مہر زہرا کے رونے کی آوازیں سنیں مگر تلاش بسیار کے باوجود اس کا سراغ نہ مل سکا، اس کی سسکیوں کی آوازیں آتی رہیں ، پس انہوں نے حکم دیا کہ موسیقی کے بجاے اس ہلچنگرا پر ہر سال مجلس کا اہتمام کریں ، وہ دن اور آج کا دن جولائی کے آخری ہفتے میں اہالیان کھرمنگ خاص ( کرابہ تھنگ، محلہ سادات، رومبوخہ، یورنگوت) یہاں جمع ہوتے ہیں اور ایک مجلس کا اہتمام کرتے ہیں۔ ، جسے یہ لوگ نظاری ہلچنگری ماتم کہتے ہیں جو کہ درست نہیں ، بلکہ اس کا نام مہر زہری ہلچنگرا ہے۔۔ زیر نظر تصویر پچھلے سال اسی مجلس کی ہے۔۔۔ ہاں بزرگ ذاکر اخوند حسین کے بقول جب کبھی راجہ فیملی میں کوی فوتگی ہوتی ہے تو فوتگی سے کچھ دن پہلے مہر زہرا دکھائی دیتی ہے ، خود آخوند صاحب نے دو تین دفعہ ان کو محل کے آس پاس دیکھا ہے ، ایک مرتبہ تو قریب سے بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا ، ان کے بقول وہ خاتون سفید چادر میں خود کو لپیٹ کے گلابی رنگ کی قمیص میں ملبوس تھی ، اس نے ملیح اور روشن چہرے کیساتھ مسکرا کر انہیں دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو گئی ، اس کے کچھ دن بعد راجہ کھرمنگ کا بھائی محمد صالح خان اور ان کی بیگم ایک ہی دن انتقال کر گئیے ۔۔ خواہش ہے کہ ایک بار میں بھی مہر زہری ہلچنگری ماتم میں شرکت کروں مگر ہر سال کوی نہ کوی مصروفیت نکل آتی ہے۔۔

 

ممتاز ناروی کی کتاب ” کرتخشہ سے کھرمنگ تک” سے اقتباس

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website