چلاس(عمران اللہ خصوصی رپورٹ) گلگت بلتستان کے تنیوں ڈویژن کے ریجنل ہیڈ کواٹر ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں گزشتہ کئ ماہ سے خراب ہوچکی ہے جو اب تک فعال نہیں ہوسکی ہے.
ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چلاس ہیڈ کوارٹر ہسپتال گلگت اور سکردو میں سی ٹی سکین مشینیں خراب ہوچکی ہے نہ نئی سی ٹی سکین منگوائی گئی اور نہ ہی مرمت کرنے کی زحمت کی گئی حالانکہ وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید صاحب نے منصب سنھبالتے ہی اعلی سطحی اجلاس میں یہ اعلان اور حکم دیا تھا کہ گلگت بلتستان کے تمام ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو مکمل سہولیات سے لیس کیا جائے اور جون تک ٹائم لائن دیا تھا اب جون تک ایک مہینہ رہ گیا اور حقیقت یہ ہے کہ مزکوراعلان اور حکم صرف کاغذی کاروائی تک محدود رہی جبکہ تینوں بڑے ریجنل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں گزشتہ کئی ماہ سے خراب پڑی ہوئی ہے نئی منگوانا تو دور کی بات وہی پرانی مشینوں کی مرمت کرنے کے لئے زحمت نہیں کیا گیا اور وزیر صحت بھی منظر نامے سے غائب ہے.
زرائع سے پتہ چلاس ہے اس وقت گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کو سب سے زیادہ سی ٹی سکین مشینوں اور ڈائلیسز مشینوں کی اشد ضرورت ہے لیکن اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے حالانکہ وزیراعلی گلگت بلتستان نے صحت کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا تھا.
عوامی حلقوں کی جانب سے موجودہ صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے تمام اعلانات محض ہوائی اعلانات ثابت ہوئی.
ایک طرف وفاق سے اربوں روپے کی پکیج لینے کا دعوے تو دوسری طرف انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت صحت کا یہ صورتحال ہے.
زرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ کرونا کے شروع میں جو وفاقی حکومت چائنیز حکومت اور مخیر حضرات کی طرف سے ملنے والے وینٹیلیٹرزبھی فعال نہیں ہےجو کہ تشویشناک ہے کیونکہ کرونا کی تیسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے.
ایک طرف ضلعی انتظامیہ کامیاب لاک ڈاؤن کرانے میں دن رات کوششوں میں لگی ہوئی یے دوسری طرف ہسپتالوں کا برا حال ہے اور کرونا ٹیسٹنگ بھی نہ ہونے کے برابر ہے جو کہ اس تیسری خطرناک لہر میں انتہائی تشویشناک صورتحال کا باعث بنے گی.
عوامی حلقوں نے بتایا کہ وزیر اعلی کو اب اپنے احکامات اور اعلانات پر عملی اقدامات کرنے ہونگے اور انسانی بنیادی ضرورت صحت کو پہلی ترجیح قرارد دیکر اپنے وعدے کی مطابق تمام بڑے ہسپتالوں کی اپگریڈیشن سمیت سہولیات سے لیس کیا جائے.
More Stories
عوامی نمائندے سٹیٹ سبجیکٹ رول سے خائف کیوں۔۔؟ٖٖ
پاکستانی میڈیا کی نظروں سے اوجھل گلگت بلتستان کے سلگتے مسائل اور بھارتی میڈیا
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی