ہنزہ(قیمت جان)ہنزہ میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈینگ 48 گھنٹوں مے دو گھنٹے بی بجلی میسر نہیں جب کی جب کی سپشل لائینوں کثرت سے موجود سرکاری اہلکاروں اور سیاسی افراد کے لیے 24 گھنٹوں بجلی میسر جب کی عوام بجلی کے لیے ترسنے لگے موبائل چارج کے لیے بی بجلی نہیں برقیات کے اعلی حکام خواب خرگوش کے مزے لینے لگے کریم آباد علی آباد کے دور دراز گاوں کو بجلی دی ہی نہیں جاتی جب کی بازار ایریا کے لیے بجلی موجود جس دن گاوں ایریا کی باری ہوتی ہے اس دن بی بجلی نہیں دی جاتی رابطہ کرنے پے بتایا جاتا ہے ہمارے پاس اہلکار کم ھیں ان اور بند کرنے کے لیے جو کی قابل مذمت ہے ہنزہ مے بجلی کی شڈول سرے سے موجود نہیں ھنزہ کے عوام برقیات کے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ھیں کی ہنزہ مے بجلی کے نظام کو درست کیا جائے ورنہ عوام روڈز پے اے گے اور اس کی ذمہ داری برقیات کے اعلی حکام پہ ہو گی
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا