ریموٹ کنٹرول لیڈرشپ گلگت بلتستان

0 0

میں ذاتی طور پر نہ صوبے کا خلاف ہوں اور نہ ہی پاکستان کا ،جہاں پاکستان سے کچھ کوتاہیاں ہوئی وہی پاکستان نے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت مدد کی ہے اور اس بات کا ثبوت آج کی ہماری مادی ترقی ہے۔۔۔۔لیکن میرا تجربہ اور زمینی مشاہدات یہ بتانے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم گلگت بلتستان والوں کو اب انسان کے بچے بن کر سوچنا ہوگا!!! ستر سالوں میں جو مشاہدات کیے اب ہمیں کسی کے بہکاوے میں آنے کی ضرورت نہیں چاہیے وہ کسی بھی شکل میں آجائیں ۔۔ اب نہیں سنا چاہیئے میرا مطلب بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ سی پیک کی وجہ سے ہماری پوزیشن فیصلہ ساز بنی ہے۔۔ اور مواقعے بار بار نہیں آتے ہیں بحثیت قوم اگر یہ نادر مواقعہ اسٹبلشمنٹ کی چال میں آکر ضائع کیا تو پھر زندگی بھر ہم تقیسم ہی رہنگے شعیہ، وہابی، سنی ,اسماعیلی, نور بخشیہ شین ،یشکن،کاشیرو ، بلتی بروقپہ وغیرہ یہ سب کچھ دھندہ ہی جس میں مولوی حضرات اور چند مفاد پرست عناصر اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ مظبوط کرتے رہے ہیں چند سکوں کے عوض میرو جعفر کا کردار ادا کرتے ہیں جو مزہب ، علاقائی رنگ اور زات پات کو ہوا دیتے ہیں اس کھیل میں چند سادہ لوح افراد بھی سحر انگیزی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔میرا اس آرٹیکل کو تقریباً ہر طبقے کا فرد اور پارٹی کے اعلیٰ عہدے والے افراد سے سوال ہے جو کہ بحیثیت قوم ہمارے ساتھ شامل ہیں میرا سوال ہے کیا گارنٹی ہے کل آپ کے بچے بھی اسی پوزیشن پر ہوں جس پر آج اتفاقیہ طور پر فائیز ہیں ؟
کیا گارنٹی ہے کہ آپ کی اولاد بھی گورنمنٹ ملازم ہونگے؟
آپ معاشرے میں اکثریت کا مفاد کا خیال کریں تاکہ بہتر نظام کل کو آپکے بچوں کے مستقبل کو بہتر بناسکے !! آپ کی جائداد یا عہدہ سب کچھ فانی ہے معاشرتی نظام ہی واحد راستہ ہے جس میں آپ کے آنے والی نسلوں کی بہتری مضمر ہے عبوری صوبائی سیٹ اپ ہماری نسلوں کو مزید خراب کرنے اور ہمیشہ کی غلامی میں دھکیلنے کی کوشش ہے آپ حالیہ پارلیمانی انتخابات کی ٹکٹوں کا دیکھیں اگر ہم اپنی نسلوں کو یہی نام دیں صوبائی خودمختاری تو کل کو سب لعنت بھیجتے رہیں گئے ۔
کشمیر طرز کا بہتر نظام دیا جائیں جو بہتر مستقبل کا باعث بن سکتا اس عمل سے بین الاقوامی سطح پر کمشیر کاز کے اوپر پاکستانی پوزیشن بھی مظبوط ہوگا اور گلگت بلتستان کے عوام کی زندگی میں بہتری بھی آئے گئی ،یوں چین جو ضمانت چاہتا وہ بھی بہت بہتر انداز میں آگئے بڑھے گا ۔۔ گلگت بلتستان میں بڑھتا ہوا بد اعتمادی کا بخار بھی کم ہوگا جس کی وجہ سے پاکستان کے اوپر اعتماد بحال ہوگا اس وقت شعوری طور پر حالات یہ ہیں کہ اگر پاکستان کی طرف سے حلوہ پوری بانٹا جائیں تو لوگ کھانے سے پہلے اس کا نتیجہ نکالنے میں لگ جاتے ہیں جوکہ بنیادی طور پر بہت اعلی درجے کی بداعتمادی کہلاتی ہے جو کہ بہت نقصان دہ ہے معاشرے چلتے ہی اعتماد اور بھروسے پر جوکہ پیدا ہوتے ہیں سچائی سے یعنی معمالات زندگی میں سچ کا پرچار کرنا بدقسمتی سے سچ بولنے والے کو تو قومی مجرم قرار دینا پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا سب سے بڑا کام ہے جس کہ وجہ سے پاکستانی ریاست بنیں اسکی اکائیوں کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے جوکہ بحثیت ملک اور قوم بہت بڑا خطرہ ہے اس کو کسی صورت بحال کرنا ہوگا ۔۔۔کیونکہ پاکستان تو خود اس بات کو ہر فورم میں کہتا رہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقے ہے آج کس طرح اسکو آئینی بناسکتا ہے ؟ اگر کوئی خفیہ ڈیل بھارت کے ساتھ نہیں ہوا ہے تو واحد راستہ گلگت بلتستان کو کشمیر کاز کے حل تک ایک خودمختار اسمبلی کے ساتھ بہتر مقامی گورنینس کا نظام دیا جائیں یہی پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے اور اس خطے کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ضمانت بھی ہے گلگت بلتستان کے لوگ اب وہ نہیں رہے کہ آپ وزارت خارجہ سے متنازعہ کہیں اور سیاسی پارٹیوں کے ذریعے پاکستان کا حصہ کہلوانے کا شوق پورا کیا اور وہ مانتے رہیں اب گلوبلائزیشن کا دور ہے جہاں دنیا ایک گلوبل ویلیج کی طرح رابطے میں رہے ۔ اب وقت آیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اور کےٹو پہاڑ دریائے سندھ دیوسائی کا میدان سیاچن گلیشیر سب کچھ گلگت بلتستان ہوگا !!! زمین پہاڑ پاکستانی اور عوام متنازعہ والا دور ختم ہوگیا !!! اب سوال کرنے کا حق صرف گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ہے کیونکہ بہتر سالوں کی گذارشات کو ٹھوکرانے والوں کو اب جواب دینا ہوگا !! بدقسمتی یہ ہے کہ جواب دینے کے بجاۓ اس علاقے کو بلوچستان بنانے کی بھرپور کوشش ہورہی ہے اس طرح کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑ بہت زیادہ اونچے ہیں اور گلگت بلتستان کا مستقبل وہی ہوگا جو وہاں کے عوام چاہیں گے کیونکہ اب یہ علاقہ گلوبل فلیش پوائنٹ بن گیا ہے! پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اس علاقے کی دشمنی میں خود پاکستان کا اتنا بڑا نقصان کیا اب اسکو اتنی آسانی سے اپنایا نہیں جاسکتا جو کہ ایک مسلم سچائی ہے جسکا پاکستانی اسٹبلشمنٹ کو بھی ادراک ہے جسکی وہ دبے لفظوں میں زکر کرتے ہیں لیکن راوئیش نہیں بدلی ہے اب تک تقیسم کرو اور حکومت کرو کے پورانے فارمولے پر کام جاری ہے جسکے لیے اسٹبلشمنٹ سب سے بڑا کام نااہل لوگوں کو لیڈر بناکر رکھتی ہے تاکہ ریموٹ کنٹرول کے زریعے چلایا جاسکے ۔۔۔ جتنا زیادہ یہ عمل جاری رہے گا اتنا نقصان بڑا ہوگا اسکا اندازہ وقت پر کرنے کی ضرورت ہے ۔۔ پرامن گلگت بلتستان ہی پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے پوسٹ سی پیک اور چین کی پاکستانی کاروبار پر کنٹرول واحد سہارا چین کے ساتھ بہتر تعلقات ہونگے جوکہ گلگت بلتستان کے امن کے ساتھ جوڑے ہیں ۔۔۔ اب وقت آیا ہے کہ وہاں کے لوگوں کو پالیسی سازی میں شامل کیا جائیں اور مقامی وسائل نہر قبضہ گیری کے نظریہ کو ختم کرکے تعمیری سوچ کے ساتھ آگئے بڑھنا ہوگا ورنہ اسٹبلشمنٹ صدیوں تک افسوس کرتا رہے گا ۔ گلگت بلتستان کے دوستوں ہمیں جوش سے زیادہ ہوش میں رہنے کی ضرورت بہت ورنہ مزید کئی عشرے اپنی قسمت پر روتے رہنا ہوگا جناب تو آج کی اس تاریخی گھڑی کو اللہ تعالیٰ کی بہترین کرامت سمجھ کر بہتر مستقبل جو نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرسکتا ہے قدم بقدم چلنے کی ضرورت ہے ہماری آخری اور پہلی پہچان #گلگت #بلتستان ہے باقی مزہب زات پات سب کچھ گھر کے افراد کے مختلف ناموں کی طرح ہیں لیکن ہماری تقدیر ہماری بپچان ہماری پوزیشن ہماری فیملی نام ہے جو کہ گلگت بلتستان ہے باقی پاکستان کا صوبہ بننے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن بن نہیں سکتا !! عبوری اور سابوری ٹپوری بن کر اپنا وقار اور آزادی کی توہین نہ کریں یہ آزادی خون دیکر حاصل کیا ہے یہ کسی بریٹیسش نے تقسیم کرکے دیا ہوا بٹوارے کا حاصل نہیں اس کی قدر کریں!! اور وقار کے ساتھ جینا سیکھیں آج وسائل کا نہ ہونا کل کی خود کفالت ہے انسانی زندگی کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے میرے ابو بتاتے ہیں ایک زمانہ تھا سکردو کی زمیں کوئی فری میں نہی لے جاتا تھا آج کروڑ روپے کی ہوگئی تو بدلتے رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے جو لوگ گندم کو بیانیہ بناتے ہیں انکو میں تو مسلمان ہی نہیں سمجھتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی زات اقدس پر جن کا ایماں نہیں وہ مسلمان کیسے ؟ تو میرے دوستوں گندم اور چاول سے آگے کا سوچو ۔۔رہنماوں کو مفادات سے آگے کا سوچنا ہوگا عوام اور علما کو خود سے ذیادہ اپنی آنے والی نسلوں کا فکر کرنا چاہیے کیونکہ مولا علی علیہ السلام کا قول ہے کہ ” انسان اور جانور میں بنیادی فرق یہی ہے کہ جانور اپنا سوچتا ہے انسان دوسروں کا ” اور آللہ پاک پر بھروسہ کرنے کے لیے ہمیں سب سے بظاہر ناتوان ترین اللہ تعالیٰ کی مخلوق پرندوں سے کچھ سیکھنا ہوگا جو روز خالی ہاتھ گھونسلے میں لوٹتے ہیں کیونکہ انکا ایمان اللہ تعالیٰ پر کامل یقین سے بڑھ کر ہے اور اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی اور ڈر سے پریشان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی زات کے قدرتی کرشماتی علامات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے جو قادر متعال ہے اس کے آگے اسٹبلشمنٹ کی ٹھیکیداری نظام کی حیثیت اور حقیقت کیا ہوسکتی ہے؟
چین کی طرف سے شروع دن سے دوٹوک آنداز میں گلگت بلتستان کی رضامندی کو منصوبے کی تکمیل کی ضرورت قرار دیا گیا تھا لیکن اسٹبلشمنٹ نے خود ساختہ وعدے اور بیانات سے چین کو مزید مشکل میں ڈال دیا جس پر چین نے آخری اقدام کے طور پر گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ دینے کی ڈیمانڈ کیا جو کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے لیے ایک قیامت سے کم نہیں تھی لیکن مطالبات کو مسترد بھی نہیں کرسکتے تو یہ عبوری صوبائی نظام کی بحث پھر شروع کردیا گیا ہے ۔۔جس کی کوئی حیثیت اور حقیقت نظر نہیں آتی بس گلگت بلتستان والوں کو اب بھی شاہ رائیس ،حسن خان صاحب اور عالم خان آف پشاور اور وقت کو 1948 سمجھ رکھا ہے انشاللہ ایسا نہیں ہوگا سوائے ایک نئے عمرانی معاہدے کے اس مسلے نے مزید الجھنا ہے گلگت بلتستان والوں کو ڈر ہے اگر معاملہ زبانی ہوگا تو کوئی اور چونا لگ سکتا ہے اس طریقے کو لوگوں نے دیکھا ہے سو مزید تجربات نہیں کیے جاسکتے ہیں کیونکہ استادوں نے اتنی چونا ماری کی ستر سالوں سے اب تو جنت الفردوس کا راستہ بھی دیکھائی دیا تو لوگ اعتماد نہیں کرسکتے اور یوں جنت الفردوس کی ٹکٹ والا چونا مولوی صاحبان کے ہاتھوں میں ہی سوکھ رہا ہے اور ہاتھ ملانے والا نہیں مل رہا کیونکہ اسٹبلشمنٹ کی خواہش پر علاقے کو فرقہ واریت کے آگ میں دیکھیلنے والے اسلام کے نہی اسٹبلشمنٹ کے مولوی ہیں جو معاشرے پر زنگ گاتے ہیں اسلام کے نام پر تفرقہ بازی پیدا کرتے ہیں انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں البتہ اسلام آباد کے چمچے ضرور ہونگے !!
سوالات اور بھی ہیں مگر وقت کے ساتھ فلحال انہی سوالات پر غور کریں تو نظام بدل سکتا ہے۔ جوکہ گلگت بلتستان اور پاکستان دونوں کے لیے بہت مفید ثابت ہونگے ۔

تحریر ۔۔پروفیسر علی شفا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website