خانقاہ معلیٰ منٹھوکھا پر ایک نظر

0 0

یہ ناقابل انکارحقیقت ہے کہ مبلغین اسلام ایران سےتبلیغ دین کے غرض سے کشمیر تشریف لائے۔جہاں جہاں مبلغین اسلام گئے اور مقامی لوگوں نے اسلام قبول کیا وہاں نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد تعمیر کی گئیں۔چونکہ اسلامی معاشرے میں مساجد کے ساتھ عبادت کا عنصر لازمی کردیا گیا ہے۔جب بھی کسی مبلغ اسلام نے کسی دور دراز علاقے میں جاکر تبلیغ اسلام کی خاطر ڈیرہ لگایا تو اس شمع اسلام کے ارد گرد بہت سے پروانے اکٹھے ہونے لگے۔ ان کی باطنی تربیت کیلئے ایک خاص جگہ تشکیل دی جانے لگی تاکہ شمع کے گرد پروانے آسانی سے اکھٹے ہوسکیں اور دور دراز سے آنے والے کو صحبت مرشد میں رہنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل سکیں۔اس مقصد کے لیے مسجد کے ساتھ ہی ایک اور مقدس عمارت بنائی جاتی ہے جسے خانقاہ کہتے ہیں۔
خانقاہ فارسی لفظ ہے اور لغات میں اس کے مختلف معنی ہے مشائخ کے رہنے کی جگہ، صوفیوں کی عبادت گاہ وغیرہ۔ جبکہ مذہبی اصطلاح میں باطینی تربیت گاہ ہے چونکہ مساجد میں مسلمانوں کی ظاہری تربیت کا نظام موجود ہوتاہے۔جبکہ خانقاہ میں باطینی تربیت کی جاتی ہے۔
یوں تو گلگت بلتستان طول و عرض میں بہت سی تاریخی،تہذیبی،ثقافتی اور مضبوط چھوٹی بڑی خانقاہیں موجود ہیں ان کے بارے میں مورخین کا کہنا ہے کہ یہ خانقاہیں 400سال پرانی ہے۔انہی خانقاہوں میں سے ایک کا تذکرہ کرنے جارہا ہوں وہ “خانقاہ معلیٰ منٹھوکھا” ہے۔جو سکردو سے 65 کلومیٹر مشرق کی جانب اور تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد،برف پوش فلک بوس پہاڑ کے دامن میں، دریائے سندھ کے کنارے،سکردو کرگل روڈ پر واقع بلتستان کا مشہور سیاحتی مقام منٹھوکھا ضلع کھرمنگ میں موجود ہے۔ اس خانقاہ کے سن تعمیر کے بارے میں مکمل تاریخ تو کہیں درج نہیں ہے۔البتہ یہاں کےبزرگوں کی زبانی سنا ہے کہ یہ بھی چار سو سال پرانی ہے۔اس کی فن تعمیر میں مختلف روایتی اندازوں کی واضح جھلک ہے۔جن میں تبتی، مغل اور فارسی طرز تعمیر کا عنصر موجود ہے۔عمارت کے اندرونی اور بیرونی۔دیواروں پر سفید اور سرخ رنگوں سے پٹی دار انداز میں مزئین کیاگیا ہے۔ چھت کے اندرونی حصے قدیم خطاطی سے قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔اس کے علاوہ عربی،تبتی اور فارسی تحاریر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔مربع شکل(پنتالیس بائی پنتالیس فٹ جبکہ اونچائی بیس فٹ) کا یک منزلہ یہ تعمیراتی ڈھانچہ کی چھت چھ بالشت موٹے اور 16 فٹ لمبے چھ بڑے ستونوں کے سہارے قائم ہے، اس کے ساتھ ساتھ صحن کی دس ستونوں کا سہارا بھی چھت کو میسرہیں۔آٹھ منفرد اور دلکش ہوادار کھڑکیاں ہیں جس کے بالائی حصے پر انتہائی باریک بینی سے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں کو جوڑ کرمخلتف قسم کی ڈیزائن کی جالی بنائی گئی ہے تاکہ روشنی اور ہوا آسکے۔کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا کہ جدید مشینوں کے بغیر بنائے گئے ہو۔1990تک اس وسط میں زہرمہرہ سے بنے دیسی ساختہ قندیل میں خوبانی کے تیل سے بیک وقت بارہ چراغ روشن ہوتے تھے لگا ہوا تھا۔اب اس جگہ جدید فانوس (وقف از
مرحوم جعفر صاحب) جکمگا رہا ہے۔مین دروازے۔کے۔دو پلے ہیں۔حیرت کی بات ہے جوکہ بلکل ثابت ہے کوئی۔ٹکرے جوڑ کر نہیں بنائے۔ہیں ہر ایک کی وزن لگ بھگ دو دومن کے قریب ہے۔دروازے پر دو زنجیروں لگی ہوئی ہے جو بھی یہاں سےگزرتے ہیں وہ سر جھکا کر ان کو ہاتھ لگانا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔
اگر دروازے پر کھڑے ہوکر اندر کی طرف دیکھیں تو پہلی نظر خوبصورت منقش محراب و منبر پر پڑتی ہے۔جس کے فن تعمیر،مہارت ،خوبصورتی دیکھ کر دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔جس کی دیواریں، لکڑی کے سلیبوں اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ملا کر بنائی گئی ہے۔اس میں خاص طور پر اخروٹ،شہتوت،خوبانی اور جونیپر کی لکڑیوں کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ ان درختوں کی لکڑی کی خصوصیات یہ ہے کیڑے مکوڑوں۔سے محفوظ ہوگا، بہت مضبوط۔اور۔زیادہ دباؤ برداشت۔کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جبکہ خالی جگہوں کو پتھر اور چکنی مٹی سے بھرا گیا ہے۔اس زمانے میں کاریگروں کو نہ اس کے مطلوبہ اوزار میسر تھے اور نہی کوئی مشینیں، اس کے باوجود چوب کاری کے اچھوتے اور منفرد نمونے،خوبصورت نقش ونگار ان دستکاروں کی ذہانت و مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس کے طرز تعمیر،حسین امتزاج ہر دیکھنے والے کی آنکھوں کو حیرت میں ڈبو دیتا ہے۔
یہ خانقاہ ضلع کھرمنگ کی سب سے بڑی، تاریخی اور مذہبی اعتبار سے اہمیت کے حامل خانقاہ ہے۔جس میں کم وبیش دو ہزار لوگ سما سکتے ہیں۔ موسم گرما میں نماز با جماعت اسی ادا کی جاتی ہے جبکہ موسم سرما اس سے ملحقہ مسجد پڑھی جاتی ہے
یہاں بڑے بڑے اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں یوم عاشورہ، اعمال شبہائے قدر وغیرہ جن میں غاسنگ تا ہلال آباد کے مومنین شرکت کرتے ہیں۔جبکہ عیدیں کی نماز خانقاہ معلیٰ کے وسیع صحن میں ادا کی جاتی ہے۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا خانقاہ کو موسمی تغیرات کی بنا پر نقصانات پہنچتے گئے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ تحت 1399ہجری میں مرمت کی گئی۔ اس دوران انہوں نے سفید اور سرخ رنگ کے کچاچونےجوکہ یہاں کے پہاڑوں سے نکلتا ہے لاکر اس کے اندرونی اور بیرونی دیواروں کو رنگا ہے۔
تقریبا دس پہلے محسن ملت،مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کے حکم سے دوبارہ مرمت کر کے قدیم حالت میں محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے چھت سے مٹی اور پتھر کو ہٹا کر شیٹ لگائی گئی ہے تاکہ وزن کم ہو اور اس کی اصلی حالت برقرار رہے۔
یوں تو منٹھوکھا ایک سیاحتی مقام ہے۔اس کے خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر ،بلندپہاڑی چوٹیاں ،لہلہا تے کھیت ،ٹھنڈ چشمے اور آبشار ،ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے اندر ایک منفرد کشش رکھتی ہے۔ جہاں سالانہ ہزاروں کی تعداد میں قومی اور بین الاقوامی سیاح آتے ہیں۔ لیکن اس عظیم طرز تعمیر کے شاہکار کو دیکھے بغیر چلے جاتے ہیں۔یہ ثقافتی اور تہذیبی آثار ضلع کھرمنگ میں تشریف لانے والے سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔اور ضلعی انتظامیہ سے بھی اپیل ہے کہ بہت سے قدیم خانقاہیں بلتستان کے طول و عرض میں بکھرے ہوئے ہیں۔جنہیں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کرے۔

 

تحریر ۔غلام حیدر وائین منٹھوکھا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website