محترم قارئین! ہمارے معاشرے میں ہر طرح کے ہر قسم کی فطرت کے لوگ موجود ہیں۔ جہاں معاشرے میں مطلب پرست، مفاد پرست، ضمیر فروش اور ایمان فروش لوگ موجود ہیں وہاں خدا پرست، باضمیر، دیانتدار، ایماندار اور غریب دوست لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ انسانیت کی فلاح اور بھلائی کے لیے کام کرتے ہیں جبکہ شیطانی گروہ کے پاس بڑے تجربہ کار، مفاد پرست اور مکار لوگ موجود ہوتے ہیں اور ہر وقت کسی سازش میں مصروف ہوتے ہیں اور معاشرے کے ہر اہم معاملات میں پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے ہم کہتے ہیں جہاں بھی معاشرہ خراب ہوتا ہے وہاں خراب لوگ ہیں۔ اچھے نیک لوگوں کو معاشرے کی درستگی کے لیے کوشش کرنی چاہیئے۔ خراب لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ ایسے لوگ اللہ اور اللہ کے رسولؐ کو مانتے ہیں اپنی بات میں اللہ اور رسولؐ، قرآن اور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں مگر اپنے عمل سے یہ ثابت نہیں کرتے۔
محترم قارئین! یہ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس وقت کچھ لوگ عبادت اور دیگر زندگی کے معاملات کو الگ سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ نماز کو ہی عبادت سمجھتے ہیں اور وہ دیگر معاملات میں جیسے امانت میں خیانت کرنا، جھوٹ بولنا، عوام اور غریبوں کا حق کھانا، ناجائز منافع خوری، ملاوٹ، سفارش اور بدعنوانی کو حق تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی گناہ نہیں سمجھتے ہیں یا ایسے اقدام کو عبادت سے الگ سمجھتے ہیں اور اس طرح کی آمدنی سے قرآن خوانی بھی کرتے ہیں صدقہ اور خیرات بھی دیتے ہیں، چندے بھی دیتے ہیں اور لوٹ مار کے پیسے سے حج عمرہ کرتے ہیں حالانکہ علماء حق فرماتے ہیں او ر کتابوں میں بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی نماز، روزہ اور نیکی سے کوئی غرض نہیں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی اپنی گناہوں کی معافی حق تعالیٰ سے مانگے تو ممکن ہے وہ ذات پاک معاف فرمائے لیکن ارشاد یہی ہے کہ حقوق اللہ کی حد تک خدا معاف فرماتا ہے لیکن حقوق الناس یعنی لوگوں کے حقوق معاف نہیں فرماتے حتیٰ کہ متاثرہ شخص ہی معاف نہ کرے۔ پھر کیوں ہمارے معاشرے کے چند ٹھیکیدار حرام کے کمائے ہوئے پیسوں سے، ٹھیکوں میں کئے ہوئے گھپلوں، سفارشی حربوں اور کمیشن رشوت دے کر کرنے والے عوامی منصوبوں میں غریب عوام کا مال حق غصب کرکے لانے والے پیسوں کو محض انیاداری اور مفاد کے حصول کے لیے علماء کے آگے ڈال دیتے ہیں اور کچھ علماء کرام ان اشخاص کے کردار سے واقفیت کے باوجود ان کے لیے مزیدبرکت کی دعا کے ساتھ نذرانہ قبول کرتے ہیں اور یہاں سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب معاشرے میں کسی غریب محنت کش حلال کی کمائی کرنے والے کا کوئی عزیز ماں باپ دنیا سے رخصت کر جاتے ہیں اُن کے گھروں میں علماء نظر نہیں آتے ہیں اگر کوئی شادی یا کوئی مخصوص دن منائے تو علماء کم نظر آتے ہیں لیکن اگر اسی محلے میں یا علاقے میں کسی بڑے ٹھیکیدار یا دوکاندار یا کوئی صاحب حیثیت کے ہاں کوئی فوتگی یا خوشی کے موقع پر علماؤں کا قطار اندر قطار نظر آتے ہیں آخر یہ تفریق کیوں؟ مخص چھوٹے چھوٹے مفادات کے لیے یا جھوٹی عزت اور منصب کے لیے۔ یوں تو سکردو میں بے شمار اصلاحی، معاشرتی، سیاسی اور فلاحی تنظیمیں موجود ہیں ان میں زیادہ تر تنظیموں کا کوئی نہ کوئی علماء ہی ہیڈ ہوتا ہے یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ لیکن سکردو شہر میں بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ سے غریبوں کا جینا مشکل بنا ہوا ہے۔ شہر میں سڑکوں کی ناگفتہ صورت حال سب کے سامنے ہیں۔ ٹریفک کی بے ہنگم صورت حال، عوامی منصوبوں کی ناقص تعمیر، ٹیڈرنگ میں بدعنوانی، صفائی کا ناقص نظام، گندم کی سپلائی میں بد انتظامی غرض سکردو شہر کے آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ بیروزگاری عام، سفارشی کلچر، اقرباء پروری عام ہے اسی صورت حال میں ان تنظیموں کی کیا کارکردگی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اتنے سارے علماؤں، عوامی نمائندوں اور تنظیموں کے سربراہوں کی موجودگی میں سکردو شہر باغ ارم بن جاتا لیکن جتنی زیادہ تنظیمیں بنتی جا رہی ہیں مسائل اتنے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی نے صحیح کہا۔ کسی شہر میں جب لیڈر زیادہ بن جاتے ہیں تو سمجھ لیں کہ وہاں صحیح قیادت کی کمی ہے۔ واقعاً سکردو شہر میں ایسی ہی صورت حال ہے۔ قول ہے تمام عبادتوں سے بہتر مظلوموں اور عاجزوں کی فریاد کو پہنچنا ہے لیکن سکردو میں مظلوموں اور عاجزوں کی کون سنتا ہے۔ یہاں تو لیڈر راہنما اور سماج کے ٹھیکیدار اپنی جیب بھرنے کے لیے غریبوں کے جیبوں کو کاٹتے ہیں۔ بجلی کا سپیشل لائن ان کے لیے۔ آٹے کا سپیشل کوٹہ ان کے لیے، پٹرول کی قلت کے دوران ان کے گراجوں میں پٹرول سٹاک، ہسپتال میں ان کے ہے لوکل پرچیز غریب مہنگے داموں دوائی خریدنے پر مجبور۔ محکمہ مال اور انتظامیہ کے دفاتر میں ان کا کام منٹوں میں ہو جاتا ہے جبکہ غریبوں کاوراثتی انتقال کے لیے انتظار کرتے کرتے سائل کا خود انتقال ہو جاتا ہے۔ بازاروں میں سڑکوں پر چوری اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں پھرنے والے ٹریفک قانون کی دھجیاں اڑاتے پھرتے ہیں ان کا کوئی چالان یا جرمانہ نہیں بس غریب ٹریکٹر اور مال بردار گاڑی اور نمبر ایک گاڑی والوں پر چالان بھی کاٹتے ہیں جرمانے بھی ہوتے ہیں اور کسٹم ادا کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی کن کن ناہمواریوں کا ذکر کریں۔
محترم قارئین! تمہید کچھ طویل ہوگئی۔ مقصد یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں غریبوں کے مسائل حل نہ ہونے کے اسباب کیا اور وجوہات کیا ہیں۔ اگر وجوہات اور اسباب کو جان لیں تو ہمارے درمیان اچھے نیک لوگ ہیں جو مسائل پر قابو پاسکتے ہیں۔ بس ذرا اظہار جرأت چاہئے۔ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی مصلحتاً خاموش رہنا بھی خیانت ہے۔ خیر سے سکردو میں الیکشن کا مرحلہ بھی گزر گیا۔ وزیر اور مشیر بھی بن گئے گھر، گاڑیاں اور مراعات بھی حاصل ہوگئے ہیں لیکن سکردو شہر کے شدید سردی میں غریب عوام آج بھی روشنی اور حرارت سے محروم، اندھیرے میں راتیں تکلیف میں گزار رہے ہیں۔ کیا غریبوں کا درد رکھنے والے راجہ ذکریا اور عوام کی خواہشات پر برسر اقتدار آنے والے وزیر سلیم اور حلقہ نمبر۲ کے عوام کے ہمدرد ہونے کا دعویٰ کرنے والے میثم صاحب سرکاری مراعات کی گرمائش سے سکردو کی ٹھنڈی اور اندھیری راتوں کو بھول گئے یا سابقہ وزیروں مشیروں کی طرح ان کے کان بھی غریبوں کی فریاد سننے سے قاصر ہیں۔ آخر غریبوں کی مانگ ہی کیا ہے۔ گندم کا کوٹہ، سردیوں میں حرارت اور روشنی کے لیے بجلی،آمدورفت کے لیے سستی سواری اور ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولت۔ بس ذرا طریقہ کار کو بہتر بنانا مقصود تھا۔ شاید ہمارے یہ حضرات بھی مراعات کے آگے بے بس ہوگئے ہیں۔
جو کسی جبر پہ ہونٹوں کو سیا ہ کرتے ہیں
ظلم کرتے ہیں وہ ظالم کی حمایت کرکے
تحریر :وزیر محمد اقبال
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟