گلگت (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی رکن گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ سانحہِ مچھ پر پوری قوم افسردہ ہے جبکہ کٹھ پتلی اور شقی القلب وزیر اعظم مظلومین کی اشک شوئی کے لئے شہدا کے لواحقین کے پاس جانے سے گریز کر رہا ہے۔ عمران نیازی سابقہ ادوار میں یہ کہتا تھا کہ جس مقتول کا قاتل نہ ملے اسکا قاتل وقت کا حکمران ہوتا ہے۔ آج اپنے دور حکومت میں اسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ ریاستِ مدینہ کے دعویدار حاکم وقت کا دل ان مقتولین کے ورثاء کی آہ و بکا سے بھی نہیں دہلتا۔ کیا یہ اس ملک کے باسی نہیں جس کے وہ حاکم ہیں۔ ریاست مدینہ کا حاکم تو فرات کے کنارے مرنے والے کتے کی موت کا ذمے دار بھی خود کو ٹھہراتا تھا مگر یہ تو انسان ہیں ان کا خون اتنا سستا کیوں۔ ذبح کی گئی لاشوں کو سامنے رکھ کر حاکم وقت کا انتظار کرنے والے یہ مظلوم لواحقین یہ بھول گئے ہیں کہ آپ تو بادشاہ سلامت ہیں آپ کے شوق سلامت رہیں رعایا تو ہوتی ہی مرنے کے لئے ہے۔ ہر بات پر مغربی ممالک کی مثالیں دینے والے عمران نیازی کم از کم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے ہی کچھ سیکھ لیں جو بن بلائے بھی مقتول مسلمانوں کے لواحقین کے غم میں شریک ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ اور وزراء اسلام آباد میں خوشیاں منانے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف پوری قوم سانحہ مچھ کوئیٹہ کے شہداء کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے سراپا احتجاج ہے پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں عوام دھرنوں میں بیٹھے ہیں جبکہ حکومت گلگت بلتستان اور وفاقی وزراء اسلام آباد کے اعلیٰ ترین ہوٹلوں میں گلگت بلتستان میں دھاندلی زدہ حکومت بنانے کی خوشیاں منانے میں مصروف ہیں جو کہ نہایت افسوسناک طرزِ عمل ہے۔
قوم سانحہ کوئٹہ کے غم میں ہیں صوبائی وزراء اسلام آباد میں خوشیاں منانے میں مصروف ہیں ممبر صوبائی اسمبلی سعدیہ دانش
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا