سکردو (مہدی اکمل) برفانی چیتےنے کرابہ تھنگ بشو میں 10 مویشی ہلاک کردیا بی ڈبلیو سی ڈی او نے کسانوں کو معاوضہ فراہم کردیا دارالحکومت اسلام آباد کے شمال مشرق میں تقریبا 290 کلومیٹر اور اسکردو سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گلگت بلتستان کا ایک چھوٹا سا گاؤں کرباتھنگ میں پاکستان کا قومی جانور مارخور اور برفانی چیتے کا مسکن پایا جاتاہے۔ اس گاؤں کے مقامی افرادی آمدنی کا انحصار زراعت پر ہے خاص کر مویشیوں کو آمدنی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے
2020 کے آخری ایام میں کرابہ تھنگ بشو میں برفانی چیت نے مویشیوں پر حملہ کیا اور10 بھیڑ بکریوں کو ہلاک کردیا جس سے کسانوں کو بڑا نقصان پہنچا۔ اس طرح کے واقعات رونما ہونے کے بعد عموماً مقامی کسان یاتو زہر دے کر برفانی چیتے کو انتقامی قتل کرتے ہیں۔یا بدلے کے طور پر مار دیتے ہیں
بلتستان وائلڈ لائف کنزرویشن اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (بی ڈبلیو سی ڈی او) (اس سے پہلے پروجیکٹ اسنو چیتے کے نام سے جانا جاتا ہے) مویشیوں پر انشورنس فراہم کرکے انسانوں اور جنگلی حیات کے مابین تنازعات کو کم کرنے کے لئے اس علاقے میں تقریبا گزشتہ 20سال سے کام کر رہا ہے۔ اس نقصان کے بدلے وہاں کے لوگوں کو معاوضہ فراہم کرتا ہے تاکہ زمینداربدلے میں برفانی چیتے کو نقصان نہ پہنچا سکے اس انشورینس سکیم کا ماڈل بی ڈبلیو سی ڈی او نے پاکستان میں خطرے سے دوچار برفانی چیتے کی آبادی کو بچانے کے لئے شروع کیا تھا اور اب اس کی نقل دنیا بھر میں ملتی ہے۔ کرابہ تھنگ کے کسانوں کو ایک معاوضہ چیک دیا گیا تاکہ نہ صرف ان کے نقصانات کو کم کیا جاسکے بلکہ اس برفانی چیتے کو بھی بچایا جاسکے جو پاکستان میں پایا جاتا ہے ، پاکستان دنیا کے بارہ ممالک میں سےایک ہےجہاں یہ برفانی چیتا پایہ جاتاہے
کرابہ تھنگ بشو میں مویشیوں کو برفانی چیتے کی حملے نے نقصان پہنچایا اور کسانوں کو بی ڈبلیو سی ڈی او نے ازالہ کردیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا