گلگت (پ ر) ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122گلگت بلتستان فدا حسین کی زیر صدارت سال 2020کی مجموعی کارکردگی کے حوالے سے ہیڈ آفس گلگت میں کارکردگی اجلاس منعقد ہوا ،اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 گلگت بلتستان کے چھ اضلاع گلگت،سکردو، چلاس، گانچھے، ہنزہ اور نگر میں فعال ہے جبکہ ضلع غذر اور استور میں ریسکیو کے ادارے کو بہت جلد فعال کیا جائے گا۔ ریسکیو 1122 گلگت بلتستان نے 9 سا لوں میں مختلف نوعیت کی 39723ا یمرجنسیزمیں خدمات فراہم کیں۔
سال 2020 میں گلگت بلتستان ریسکیو 1122کے اہلکاروں نے مجموعی طور پر 6337حادثات پر پہنچ کرقیمتی جانوں اور املاک کو بچایا جن میں میڈیکل کی 3474،سڑک پر حادثات 622،آگ لگنے کے 123حادثات، ڈوبنے کے حادثات94، جرائم سے متعلق حادثات 22، ہسپتال سے میتوں کی منتقلی کے 515،ریسکیو کی364حادثات،کرونا وائرس کے مجموعی 641،خودکشی کے 9اور473 دیگر حادثات شامل ہیں۔ ڈی جی ریسکیو نے بتایاکہ سال 2020میں ریسکیو 1122کے اہلکاروں نے کروانا وائرس Covid-19وباء کے دوران فرنٹ لائن پر کلیدی کردار ادا کیا،کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور مشتبہ مریضوں کو گھروں سے ہسپتال اور قرنطینہ مراکز منتقل کیا گیا، اسکے علاوہ کروانا وباء کے باعث وفات پاجانے والوں کو دور دراز انکے آبائی علاقوں تک منتقلی اور تدفین میں بھی ریسکیو 1122کا اہم کردار رہا۔
پروٹوکول ڈیوٹیو ں /ہیلی پیڈ ایس او پیز پر بھی ریسکیو 1122 کے اہلکار ایمرجنسی گاڑیوں سمیت تعینات کیئے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو 1122 گلگت بلتستان کو اوسطانوے فیصد سے زائدجعلی کالز موصول ہوتی ہیں۔ جعلی فون کالز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کچھ لوگ بلاوجہ 1122 ایمرجنسی نمبر پر کال کرتے ہیں جس کی وجہ سے نمبر مصروف ہوجاتے ہیں۔اس سلسلے میں جعلی اور بیہودہ کالز کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروئی کا آغاز کردیا گیا ہے اور ایمرجنسی سروسزکے معیار کو بہتر بنانے کے لیے تمام کالز ریکارڈ کی جارہی ہیں، انہوں نے عوام سے گزارش کی ہے کہ 1122 پر بغیر ایمرجنسی کال کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ غیر ضروری کالز سے کسی مستحق کی جان بھی جاسکتی ہے۔
ڈی جی ریسکیو نے تمام ریسکیو اہلکاروں کو نئے سال کے آغاز پر ہدایت کی ہے کہ عوام کو بہترین خدمات پہنچانے کے لیے محنت اور لگن سے کام کریں اور کسی بھی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لائیں۔
2020 میں ریسکیو 1122 گلگت بلتستان نے کرونا وائرس اور حادثات میں کتنا اہم رول ادا کیا؟ تفصیلات کیلئے لنک کلک کریں
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا