گلگت بلتستان کے نمائندے اسٹبلشمنٹ کی ملازم اخر کیوں؟

0 0

اسٹبلشمنٹ کی نوکری اچھی نہیں حفیظ ۔۔۔
اس بات کو تقریباً چار سال ہوگئے جب سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان صاحب مشہور ہوگئے تھے کہ اسٹبلشمنٹ کے آکسیجن سیلینڈر پر انکی سانسیں چل رہی تھیں مزے کی بات کہ اسی حالت میں جب اسٹبلشمنٹ اپنا میوزک چلاتی تھی تو سیلینڈر سمت حفیظ صاحب اپنی فوج کے ساتھ بھنگڑا طرز کی ڈانس میں محو ہو جاتے تھے ایسے میں کھبی گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ اور حقوق کی بات کرنے والے غدار ہوجاتے تو کھبی غیر قانونی ٹیکس کے خلاف قیام کرنے والے گلگت بلتستان کے عوام اور انکی رہنمائی کرنے والی گلگت بلتستان کے آبائی باشندے جن کے آباؤ اجداد نے ڈوگروں سے آزادی حاصل کی وہ انڈین ایجینسی را کے ایجنٹ نکلے اور یہ سب کچھ پردے کے پیچھے بیٹھنے والے اسٹبلشمنٹ کے غیر مقامی آفسران کروا رہے تھے اور حفیظ صاحب کو کشروٹ والے اور غیر مقامی اسٹبلشمنٹ اور افسران کے علاؤہ کوئی محب وطن نظر نہیں آیا اور روز انڈیا کے ایجینٹ اور دشمن کے لیے کام کرنے کا کہتے رہے ۔۔یہ سلسلہ جاری رہا اور اندورن خانہ انھی قوتوں نے حفیظ صاحب کو کرپشن پر لگایا تاکہ ہمیشہ کے لیے انکا انتظام ہو جائیں ۔۔۔یوں حفیظ الرحمان صاحب کی کمیشن اور سلطان کے ساتھ سلطنت سلطانیہ میں حصہ داری اور پھر بھرتیوں میں کھل کر کشروٹ پرواری سامنے آگئی ۔۔۔ایک وقت ایسا شروع ہوا جب نواز شریف کی حکومت گئی تو حفیظ الرحمان صاحب نے پاکستان اسٹبلشمنٹ کو تو چھوڑیں سیدھا راستہ جی ایچ کیو کی طرف کر کے گولہ باری کی کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں اور ہم ایسے پاکستان کا حصہ نہیں ہونا چاہتے جس میں فوج جمہوری نظام میں کھل کر مداخلت کریں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔پھر انکو سی پیک مین نمایندگی نہ ہونا بھی یاد آیا گلگت بلتستان کو حقوق نہ ملنا بھی اور زمینوں پر قبضہ بھی تب تک بندہ اتنا کھولا ہوچکا تھا اس کی کابینہ میں بیٹھے ممبران اسکی اسطرح کی بیانات پر قہقہے لگاتے تھے اور اسٹبلشمنٹ نے اسکو وہ تمام فائلز بشمول چھومیک پل ٹی سی ایس کیا تھا جن کو دیکھ کر وزیر اعلیٰ صاحب مدہوشی کی عالم میں زندگی گزارنے لگے تھے پھر یوں ہوا کہ ایکشن کا اعلان ہونے لگا تو معزرت کے ساتھ مغل بادشاہ کی کیچن کیبنٹ کے ممبران نے دوسری پارٹیوں کی طرف رخ کیا یوں حکمران پارٹی مسلم لیگ نون کا گلگت بلتستان میں جنازہ نکل گیا اور حفیظ صاحب ماضی کا وہ حصہ ہوگئے اب اس پر نہ تو کوئی بھروسہ کرتا اور نہ کوئی اعتبار کیونکہ انسان کی اصل پہچان اقتدار ملنے کے بعد ہوجاتی ہے اور یوں حفیظ صاحب کی پہچان ہوگی گلگت بلتستان کے بچے بچے کو اور یوں ایک وزیر اعلیٰ جس نے اپنے حلقے کی پانچ سال سیاست کی ہو ایسے گلگت بلتستان ہی حلقہ دو ہو اور بس نوکریوں، ٹھیکیداری۔ اور ترقیاتی منصوبوں اور حاتکہ ڈیپوٹیشن سارے محکموں میں بھر کر گلگت بلتستان کو بہت نمایاں نقصانات دے اسطرح حفیظ صاحب صاحب اپنے مفاداتی اور تنگ نظری کی سیاست کی وجہ سے اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی مسلم لیگ نون کیخلاف راکٹ کی طرح بربادی کا سبب بن گیا یوں مسلم لیگ نون وہاں سے کامیاب ہوئی غذر سے جہاں سے صرف غلام محمد صاحب کا شخصیت کو ملنے والے ووٹ سے کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ پچھلے الیکشن میں دھاندلی کرکے حفیظ الرحمان لابی نہ اسٹبلشمنٹ کی مدد سے ہارا دیا تھا کیونکہ غلام محمد پارٹی میں حفیظ الرحمان سے بھی سینر ترین رہنما تھے جس کی وجہ سے وزارت اعلیٰ کی دوڈ کو کمزور رکھنے کا ایک فارمولا بتایا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی شان کو پتہ سچائی کیا ہے لیکن یہ سچ ثابت ہوگی کہ اسٹبلشمنٹ لوگوں کو ٹیشو کی طرح استعمال کرتی ہے اور وقت آنے پر ڈسٹبن کا حصہ ہونا ہی ہے اس سے بہتر نہیں انسان اپنی سوچ فکر اور نظریے کے مطابق کام کرتے رہیں اسٹبلشمنٹ کا ناشتہ جس میں سب کچھ اور سب ہوتے ہیں آج تک کسی کو راز نہیں آیا ہے تو نئے آنے والوں کو بھی ہماری طرف سے اطلاع عام ہے ناشتے ضرور کریں لیکن ہوش میں رہ کر کام کریں کیونکہ آج کا دور گلوبل وارمنگ اور گلوبل انفارمیشن کا دور ہے آج آپ جو کچھ کرتے ہیں کل وہی آپ کے خلاف چارج شیٹ تیار کرتا ہے لھذا بہتر گلگت بلتستان کے عوام کی مفادات کو سامنے رکھو اسٹبلشمنٹ نے نواز شریف کے ساتھ چالیس سالہ شراکت داری قائم نہیں رکھا ہے تو آپ اور آپ کے صوبے کی اہمیت کا اچھے سے اندازہ لگا سکتے ہیں ماشااللہ پھر آپکی لنکس اور قوت کا تو انکو اچھی طرح اندازہ ہے تاریخ گلگت بلتستان کو دیکھتے ہوئے کہ جس جس نے وزیر اعلیٰ بن کر اسٹبلشمنٹ کی میوزک پر دھمال ڈالنے کی کوشش کی ہے گلگت بلتستان کے غیور عوام نے انکو دن میں تارے دکھا دے ہیں تو جناب خالد خورشید صاحب اور ٹیم کو چاہیئے کہ سی پیک کی وجہ سے جو اسٹبلشمنٹ کی گلگت بلتستان کے لیے نرم گوشہ بنا ہے اسکو غلط استعمال نہ کریں ہاں میں ہاں تو دفتر کے چاپراسی بھرتے ہیں آپ وزیر اعلیٰ ہیں کھل کر مذاکرات کریں اور سی پیک سمت تمام اداروں میں حصہ مانگیں فلحال صوبے کی منجن کو جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چھ کے کمرہ نمبر تین میں رکھنا پاکستان اور علاقے کے لیے بہتر ہے جس عجلت میں جی ایچ کیو والے گلگت بلتستان کونسل کو استعمال کرنا چاہتے وہ شاید اتان زیادہ نقصان دہ ہوگا گلگت بلتستان کے عوام کو بہتر زندگی کی سہلولیات چاہیے تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے صحت مندانہ معاشرے کی تشکیل آپ کے عبوری یا قبوری صوبے اس عام آدمی کی زندگی میں کچھ فرق نہیں آنے والا اور چین کو خوش کرنے کی چکر میں خود کو خطے میں بے چینی کی طرف نہ دھکیلا جائیں اور گلگت بلتستان میں جس طرح جنگل کا قانون نفاز کیا ہوا ہے غیر مقامی آفسر شاہی کی جو مغلیہ دور کی عیاشیاں ہیں انکو کم کرنے کی ضرورت ہے گلگت بلتستان کے بانی مرزا حسن خان صاحب کی اولاد سمت دیگر شخصیات پر جو مشکلات ریاست کی طرف سے ڈالا ہوا ہے اسکو ناقابل برداشت سمجھ کر ختم کرنے کی ضرورت ہے جب عبدل حمید خان صاحب را کے واحد کھلاڑی گلگت بلتستان آسکتے ہیں تو جن لوگوں نے را کی شکل نہیں دیکھی ان پر یہ زمین تنگ کیوں ؟ اور یہ رویہ ایک دن اسٹبلشمنٹ کو منہ کی کھانی پڑی گئی اور جس دن بین الاقوامی قوتوں نے انٹری کا فیصلہ کیا پھر یہ صرف آگ ہوگا اور اسٹبلشمنٹ پھر آگ کے شعلوں میں اپنی ناکامیوں اور منصوبہ کو تلاش کرتی رہے گئی ۔۔گلگت بلتستان میں اسٹبلشمنٹ نے جس فرقہ وارنہ نظریات کو پروان چڑھانے مٹ توانائیاں صرف کی ہیں اب وقت آیا اسکو ختم کرکے ایک مضبوط سماجی زندگی کا سیاسی نظام شروع کیا جائیں تحریک انصاف کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ سبق آموز کہانیاں یاد دلاتا ہو جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی رہی ہیں اور اگلی دفعہ آپکی حالت یہی ہونے ہے اگر اسٹبلشمنٹ کی میوزک پر بےجا اور بے وقت ٹھمکے جاری رکھیں گے تو ۔۔۔امجد ایڈوکیٹ اور نواز ناجی ،شہزاد آغا اسمبلی کے اندر بہت اچھا اضافہ ہے مگر وہی کہانی کہ اسٹبلشمنٹ کی میوزک اور ناشتہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

تحریر علی شفا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website