خطہ لداخ کے ہزاروں بچھڑے ہوئے خاندانوں کا اخر کیا قصور

0 0

انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ اپنے خالق کے سوا وہ کسی کا محکوم نہیں ہے۔ چنانچہ فرد ہو یا ریاست، کسی کا بھی حق نہیں ہے کہ وہ اُس کے علم و عمل پر کوئی قدغن لگائے یا اُس کے جان و مال اور آبرو کے خلاف کوئی اقدام کرے۔ دنیا کی تمام قوموں نے اِسے تسلیم کیا ہے اور اپنے دساتیر میں ضمانت دی ہے کہ وہ اِس کی خلاف ورزی نہیں کریں گی۔ چنانچہ انسانی حقوق اود خاندانوں کو اپس میں جدا جدا کر کے زندگی اجیرن بنانے والوں کو خدا کبھی معاف نہیں کرتا ۔کارگل لداخ بھارت اور سکردو پاکستان میں چند ہی کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہزاروں خاندانوں کو کس قانون اور جرم میں ایک دوسرے سے جدا کیا ہوا ہے اس بات سے نہ عالمی انسانی حقوق کے تنظمیں سرگرم نظر آتے ہیں اور نا ہی دونوں ممالک کے ظالم حکمران , ۲۵ جولائی کو انتخابات میں کامیابی کے بعد تقریر میں وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری، تجارتی راستے کھولنے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی جواباً عمران کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کے نئے دور میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ مگر منقسم خاندان ایک دوسرے سے ملنے کے لئے بےتاب ہیں، کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن دونوں طرف کے حکمرانوں کی ہٹ دھرمی منقسم خاندانوں کو ملانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک طرف کرتاپور راہداری کھول کر امن کا پیغام دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ہزاروں خاندانوں کو جدا اور تذلیل کی جا رہی ہے۔ہونا تو چاہیے تھا کہ سکھوں کے لئے کرتارپور راہدری کھل سکتی ہے تو مسلمانوں کے لئے کارگل بارڈر کیوں نہیں۔ کیا یہاں دہشت گرد القاعدہ موجود ہیں ہرگز نہیں یقین کی ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاک بھارت کے جتنے بھی باڈر ہے ان تمام میں سب سے پر امن بادڑ اگر ہے تو کھرمنگ کارگل باڈر ہے ۔وزیر اعظم پاکستان جب سے اقتدار سنبھالی کئ دفعہ گلگت بلتستان کا دورہ بھی کیا, یہاں کے باسی ہر فورم پر اس سڑک کو کھولنے کیلے ہر ضلعےمیں خصوصا ضلع کھرمنگ میں احتجاجی ریلی نکالی گی تاہم کسی کو کوی ٹس سے مس نہ ہوی۔یہاں کی عوام کا مطالبعہ ہے کہ کارگل بارڈر کو کھولنے کے لئے اقدامات اٹھائیں تاکہ کئی دہائیوں سے بچھڑے خاندان ایک دوسرے سے مل سے نہ صرف بچھڑے خاندان مل سکتے ہیں بلکہ تجارتی اور سیاحتی اعتبار سے بھی خطے کو ترقی ملے گی۔پاک فوج کے ڈی جی آی ایس پی آر کی جانب سے کارگل بارڈر کھولنے اور آئینی حقوق کے حوالے سے پہلے ہی بیان دے چکی ہے یہ بیان بھی قابل ستائش ۔ پاک فوج کے شعبہ ابلاغ کے سربراہ کی طرفسے کارگل بارڈر کھولنے کے بیان سے ستر سال سے بچھڑے خاندانوں میں امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوگئی ہے۔ یہ روڈ قدیمی سلک رُوٹ مطلب شاہراہِ ریشم کا حصہ تھی۔ بھارت اور پاکستان کشمیر پر پہلی جنگ یکم جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ کے کہنے پر جنگ بندی کے ساتھ ختم ہونے کے بعد لداخ اور بلتستان الگ الگ ہو گئے۔جس سے نہ صرف پاک بھارت تعلقات خراب ہوی بلکہ دونوں طرف موجود تقریبا پندرہ ہزار سے زیادہ خاندان ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ ستر سال گزنے کی باوجود آج تک دونوں ممالک کے سربراہان اس اہم شاہراہ کو کھولنے کیلے سنجیدہ دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے جس طرح پاکستان بھارت کے دیگر باڈرز کھولے اس باڈر کو بھی کھولنے میں دلچسپی کا اظہار کر چکے ہے تاہم بھارت کے پردرام منتری مودی سرکار نے اب تک کوی جواب نہیں دیا ۔

گلگت بلتستان صوبائی شاہراہ کے 126 کلو میٹر کا حصہ اسکردو کو ضلع کھرمنگ سے ملاتا ہے۔ قدیمی سڑک جو شنگو دریا کے کناروں سے گزرتی ہے، کھرمنگ کو کارگل سے ملاتی ہے، لیکن سڑک کا یہ حصہ گزشتہ 70 سال سے بند پڑا ہے۔ واضح رہے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں سڑک کا جو حصہ موجود ہے وہ بھارت کی قومی شاہراہ 1 میں شامل ہے۔بھارت کے علاقہ کارگل لداخ میں حال ہی میں اس روڈ کو جلد کھولنے کیلے احتجاج کیا ۔سابق رکن اسمبلی حاجی اصغر کربلای سمیت سنکڑوں رہنماوں نے بھارتی وزیر اعظم سے پر زور مطالبہ کیا کہ اس روڈ کو کھولا جاے لیکن بدقسمتی سے اب تک دونوں طرف سے حکمران خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں ۔اس دوران بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی کئی سیاسی تنظیموں اور ان کے قائدین نے کارگل کے لوگوں کی جانب سے اسکردو-کرگل روڑ اور لداخ خپلوو اور دوسرے کراس ایل او سی راستے کھولنے کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔امید ہے دونوں جانب سے حکمران اس اہم روڈ کو کھول کر منقسم خاندانوں کو اپس میں ملانے کیلے پل کا کردار ادا کرے گے۔ اور ساتھ ہی دونوں ملکوں کی معیشت کیلے مدد گار ثابت ہونگے۔

 

تحریر مظاہر حسین ہلال ابادی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website