گلگت(پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات و نو منتخب رُکن اسمبلی سعدیہ دانش سے مختلف وفود اور پارٹی کارکنوں کی دانش ہاؤس آمد اور مبارکبادیوں کا سلسلہ جاری۔ عوامی وفود نے سعدیہ دانش کو رکن گلگت بلتستان اسمبلی منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ امید ہے کہ وہ پہلے کی طرح گلگت بلتستان کے عوامی مسائل کو ایوان میں پیش کریں گی۔ خصوصاً خواتین اور بچوں کے حوالے سے پہلے دور میں جو قانون سازی کروائی ہے وہ لائقِ تحسین ہے۔ مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی نو منتخب رُکن اسمبلی سعدیہ دانش نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کو یہاں کے وسائل کا مالک بنانا چاہتی ہے ہمارا منشور گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کی طرح با اختیار بنانا ہے پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام کو با اختیار بنانے اور وسائل کا مالک بنانے کے لئے پچھلے پانچ سال تحریک چلائی جس سے گلگت بلتستان کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی شعور آیا پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں اصلاحات کے نفاذ میں کوئی کمی نہیں کی ہے اور پیپلز پارٹی کو جب بھی آئندہ موقع ملا تو گلگت بلتستان کو بنیادی حقوق دے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبے بنانے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرے تاکہ اسمبلی سے اکثریت رائے سے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے لئے بل منظور ہو سکے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صلاحات دینے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ الیکشن سے پہلے حقوق کا چورن بیچ کر اب چوری کا مینڈیٹ حاصل کر کے کمیٹی کا اعلان کیا گیا ہے جو صرف ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق عملی اقدامات اٹھاتی ہے تو پیپلز پارٹی بھرپور ساتھ دے گی ہم نے گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایوان میں گئے ہیں جس کے لئے بھرپور انداز میں دفاع کرینگے کیونکہ عوامی توقعات پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جس طرح سے پچھلے ادوار میں یہاں کے حقوق کے لئے جد وجہد کی ہے اسی طرح آگے بھی کام کرینگے۔ رُکن اسمبلی سعدیہ دانش نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے جس طرح سے عوام کش فیصلے لیکر غریبوں کا جینا مشکل کر دیا ہے خدشہ ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی ایسے فیصلے کئے جاینگے کیونکہ تحریک انصاف عوام حقوق دلانے کی صرف بات کرتی ہے مگر اقتدار میں آنے کے بعد پہلے سے موجود وسائل اور حقوق بھی چھین لئے جاتے ہیں۔ وفاق میں نوکریوں اور گھر بنانے کا وعدہ کر کے تبدیلی سرکار نے پہلے سے موجود نوکریاں چھینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی بے گھر کردیا گلگت بلتستان حکومت کے وزیر اعلیٰ بھی غریب اور معاشرے کے پسماندہ طبقے کو بھی دیگر شہریوں کے برابر لانے کی بات ضرور کرتے ہیں مگر وفاق کی کارکردگی کو دیکھ کر ہمیں لگتا نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومت عوامی مفاد میں اقدامات اٹھا سکے۔
تحریک انصاف گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے سے متعلق عملی اقدامات اٹھاتی ہے تو پیپلز پارٹی بھرپور ساتھ دے گی سعدیہ دانش
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا