جس طرح 2015 میں سابق وزیر اعلیٰ قاری حفیظ نے آتے ہی پہلے ہی ہفتے میں سالانہ بجٹ فر فر پڑھ کر سنایا تھا بلکل اسی طرح نو منتخب وزیر اعلیٰ خالد حسین کی تقریر سننے کے بعد یہ بات واضح ہوگیا کہ اس موصوف کو جو پرچی ملی تھی وہی پڑھ سُنا کر داد لینے کی کوشش کی.
انہوں نے جن اہم قومی ایشو پر جو گمراہ کن باتیں کی ہے یہ گلگت بلتستان کیلئے ایک المیہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون پڑھنے والے بھی قانون سے باہر کی باتیں کرکے اقتدار مضبوط کرنے کی کوشش کرکے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں.
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جنگ آزادی گلگت بلتستان 1948ء میں ہوئی۔ نہیں جناب یہ جنگ 1947 میں شروع ہوئی اور یکم نومبر 1947 کو گلگت لداخ کا گورنر گھسنارا سنگھ کو کرنل مرزا حسن کی قیادت میں بابر خان نے گرفتار کی تھی اور 1948 میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے لائن آف سیز فائز یا لائن آف کنٹرول یا گلگت لداخ کے درمیان خونی لیکر کھنچی گئی تھی.
پھر آپ نے فرمایا کہ گلگت بلتستان پاکستان میں شامل ہوئے۔ اس نکتے پر مجھے کم از کم آپکی ڈگری پر شک ہونا شروع ہوگیا کیونکہ اس قسم کی باتیں اگر کوئی مولوی کریں تو ہم انکو سمجھا سکتا تھا تنقید کرسکتا تھا کیونکہ ہمارے ہاں سیاست کے ارد گرد چکر لگاتے زیادہ تر مولوی سیاسی طور پر اور گلگت بلتستان کی تاریخ کے حوالے سے ایک دم جاہل ہوتے ہیں. لیکن آپ نے انکو بھی پیچھے چھوڑ دیا.
جناب وزیر اعلیٰ صاحب آپکو آج بھی تاریخ پڑھنے کی ضرورت ہے. آپکو اقوام متحدہ کے قرارداد 13 اگست 1948 کے چند صفحات کا ضرور کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہے جس پر پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ برسٹر سر ظفر اللہ خان دستخط کار ہیں. جس کے مطابق ریاست پاکستان اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ گلگت بلتستان قانونی طور پر ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی اور مسلہ کشمیر کا جزو ہے. یعنی ہماری آزادی کو بروان اینڈ کمپنی کے زریعے سازشوں کا شکار کرنے کے بعد ہماری حیثیت واپس یکم نومبر 1947 سے پہلے کی پوزیشن پر چلا گیا تھا.
پھر آپکو معاہدہ کراچی 28 اپریل 1949 پڑھنے کی اشد ضرورت ہے جو ریاست پاکستان اور ریاست جموں کشمیر کے انقلابی حکومت کے درمیان طے پایا تھا. اس معاہدے کے مطابق ریاست پاکستان نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ گلگت بلتستان کی آذادی ہم نے قبول نہیں کی اور اقوام متحدہ میں دوبارہ اس خطے کا رشتہ ریاست سے جوڑ کر مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے گلگت لداخ (جو معاہدے میں لکھا ہے) ، کا انتظام عارضی طور پر پاکستان کے پاس رہے گا. اور آج گلگت بلتستان میں جو بھی نظام رائج ہیں وہ اس معاہدے کی بنیاد پر ہے. کیونکہ اقوام متحدہ کے قرارداد 13 اگست 1948کے قرارداد کی بنیاد پر تو لوکل گورنمنٹ کا باقاعدہ حکم تھا جس پر آج تک عمل درآمد بدقسمتی سے نہ ہوئے.
چلیں ان تمام باتوں کو ایک طرف رکھیں اور آپ ہی کی بات درست مانتے ہیں تو جنگ 1948 میں ہوا تو الحاق 16 نومبر 1947 کو کو کیسے ہوا یقیناً اس قسم کی باتیں آپکو مشکوک وزیر اعلیٰ بنانے کیلئے کافی ہے.
پھر آپ نے کہا نوزائیدہ صوبہ ہے. محترم آپکا یہ دعویٰ آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور پاکستان کے قانون کے مطابق آئین کے خلاف بات کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگ سکتا ہے. کیونکہ قانونی طور پر پاکستان کے چار صوبے میں جسکی آئین کے آرٹیکل 1 میں تعریف موجود ہیں.
اور پھر آپ نے کہا آئینی انتظام ہونے جارہا ہے جس کا سادہ جواب الحمد اللہ اور ہماری خواہش ہے. لیکن یہاں بھی آپکے قانونی ڈگری پر سوال آپکی باتوں سے آٹھ رہا ہے. کیونکہ اگر آئین میں ترمیم کی جاتی ہے تو ایک طرف مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ریاستی موقف مکمل طور پر دفن ہو جائیگا، وہیں جموں، کشمیر اور لداخ کی حیثیت کو جسطرح نریندر مودی نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے ختم ہی کر دیا ہے، اُسے تسلیم کرنا شمار ہوگا۔ یعنی اسوقت مسئلہ کشمیر کی کنجی گلگت بلتستان ہے اور اس خطے کو پاکستان باقاعدہ صوبے کا درجہ دیتا ہے تو مسئلہ کشمیر ایک طرح سے ختم ہو جائیگا اور خطے میں جنگ کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے، جسکا یقیناً آج کے اس بدترین معاشی بدحالی کے دور میں کوئی بھی مُلک متحمل نہیں۔لہذا اقتدار کی کرسی پر آتے ہی آپکو جھوٹ کے بجائے تاریخ حقائق کی بنیاد پر بات کرنے کی ضرورت ہے.
تحریر. شیر علی انجم
وزیر اعلیٰ خالد خورشید کا اسمبلی میں پہلی تقریر اور تاریخی حقائق.
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟