میں ہسپتال سے نکل کر چائے کے ہوٹل پر چلا گیا ،کیونکہ دن بھر ہسپتال کے انتظار گاہ میں بیٹھ کر بوریت ہو رہی تھی اور سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا ، ہوٹل کا ڈائننگ ہال کشاده نہیں تھا بمشکل دس افراد ہی ایک وقت میں کھانا کھا سکتے تھے ،چند افراد وہاں موجود کرسیوں پر ایک دوسرے سے قدرے فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ لوگ کرونا ایس او پیز سے واقف ہیں۔ میں نے سرسری نگاہ ڈالی تو ایک کرسی خالی تھی ، سو میں جھپٹ کر وہاں برجمان ہوگیا ۔
کافی دیر تک پاس کوئی نہیں ایا تو میں نے بیرے کو آواز دی ، ایک ادھيڑ عمر کا شخص حاضر ہوا اور پوچھنے لگے ” جی سر کیا کھائیں گے آپ ؟“میں نے کہا ”خیر کھانا کچھ بھی نہیں ہے “ بس ایک کپ چائے ہی پلا دے بڑی مہربانی ہو گی ۔ چائے حاضر ہوئی ، میں نے ایک چسکی حلق میں اتاری تو طبعیت کی اکتاہت میں قدرے بہتری محسوس ہونے لگی۔
چائے پیتے پیتے یکایک میری نظر سامنے دیوار پر لٹکی ایک بینر پر پڑی ، بظاہر یہ کسی پشتو فلم کا اشتہار لگ رہا تھا ، کیونکہ اس اشتہار میں موجود تمام کرداروں نے جو حلیہ بنایا ہوا تھا یہ پشتون ثقافت سے مماثلت رکھتا تھا ، پشتو فلم سمجھ کر کچھ لمحوں کے لئےہم نے نظریں چرا ہی لیں ، لیکن بغور جب اس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ پشتو فلم نہیں بلکہ شنا فلم کا ہی اشتہار تھا ۔
ابھی ابھی طبیعیت کی جس پژمردگی کو چائے کی چسکی نے دور کی تھی پھر وہی پہلی والی کیفیت پورے آب تاب کے ساتھ وجود کے نس نس میں سرایت کر گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ فلم کسی بھی مخصوص ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے اور ترقی یافتہ اقوام فلموں کے زریعے ہی دوسری اقوام پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ دوسری اقوام ان کی تقلید کریں ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین ادب، تاریخ نویسی اور فلم سازی کے شعبے میں ہمیشہ پسماندگی کا شکار رہا ہے ۔
علاقائی سطح پر کچھ فنکاروں نے اپنی مدد اپ کے تحت کچھ فلمیں ضرور بنائی ہے تاہم ان فلموں کو زیادہ پزیرائی نہ مل سکی ، اور نہ حکومتی سرپستی حاصل ہو سکی ، اور نہ ہی ان فلموں سے زرمبادلہ کما سکیں ، یہی وجہ سے کہ ان فلموں کے اداکار اور ہدایت کار اپنے خرچے پر اس پیشے کو مزید تقویت نہیں دے سکے ۔
شنا زبان میں جو فلم بنی تھی جس کا ذکر سطور بالامیں ہو چکا ہے ،گو کہ اس کی کہانی اور پس منظر کے بارے میں علم نہیں، تاہم اس فلم کی کئی خامیوں میں سے ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس فلم میں گلگت بلتستان کی ثقافت کا جنازہ نکالا گیا ہے ، اور پشتون فلموں کی عکاسی کر کے ہماری اپنی ثقافت پر کاری ضرب لگائی گئی ہے ۔
پھورو پھوری پارٹ 2 کے ہدایت کار جناب اختر حسین راجہ کو اتنا ہی کہ سکتے ہیں کہ برائے کرم فلم بناتے وقت ہماری اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں ، احساس کمتری میں دوسری اقوام کی ثقافت کو ہم پر مسلط نہ کریں تو مہربانی ہو گی ۔
تحریر. ظفر اقبال
ثقافتی یلغار
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟