اسلام آباد (رپورٹ، فدا حسین سینیئر صحافی) اسلام آباد سی پیک مشکلات اور مواقع کے عنوان سے سمینار منعقد ہوا جس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹکنالوجی فواد حسین چوہدری، سرگودھا یونیورسٹی کے استادوں اور دیگر ماہرین کے علاوہ ڈان نیوز سے وابستہ صحافی خرم حسین نے سی پیک منصوبے سے ملنے والے فوائد اور مشکلات پر روشنی ڈالی تاک اس میں گلگت بلتستان سے کوئی نمائندگی نہیں تھی اسی طرح بعض شرکا کے مطابق گلگت بلتستان کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی نمائندگی نہیں تھی تام آزاد ذریعے سے بلوچستان کی نمائندگی ہونے یا ہونے کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سمینار کا اہتمام سینٹ کی خصوصی کمیٹی برائے قومی ہم آہنگی اور انسانی حقوق نے کیا تھا۔ اس کمیٹی کےبیرسٹر محمد علی سیف نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو نہ بلانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس سے ہہلے کئی سمینار میں بلاتے رہے ہیں تاہم اس وقت ابھی ابھی انتخابات ہوئے ہیں جب ان کے نمائندگے حلف لیں گے تو ان کو بلائیں گے جس میں ان سے ان کےتحظات سنیں گے۔
واضح رہے کہ سمینار میں بہت سارے لوگوں پارلیمنٹتریں نہ ہونے کے باوجود مختلف شعبوں کے ماہر کی حیثیت سے اپنی رائے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیمنار میں یہ بھی بتایا گیا کہ صحافی خرم حسین کراچی سے خصوصی طور پر اس سمینار کے لئے آئے تھے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گلگت بلتستان سے لوگوں کو نہیں بلایا جا سکتا تھا؟
اس وقت جڑواں شہر میں بہت سارے گلگت بلتستان کے ماہرموجود ہیں۔ اس کانفرنس میں ہی گلگت بلتستان کے سابق سیکریڑی خواجہ مہرداد موجود تھے جنہیں کسی نے نہیں پوچھا اور وہ اٹھ کر چلے گئے۔ اسی طرح اور بہت سے ماہرین سابق آئی جی سندھ افضل شگری اس موضوع ڈان اخبار میں لکھتے رہے ہیں اسی صحافی و تجزیہ کار عامر حسین اس وقت راولپنڈی اسلام آباد میں نیشل میڈیا پر گلگت بلتستان اور ملکی صورتحال پر تجزیہ کر رہے ہیں وہ معروف انگریزی اخبار دی نیوز میں باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔ اسی طرح علی احمد جان کالم کئی عرصے کالم نگاری کر رہے ہیں اس کے علاوہ بھی اور بہت سارے گلگت بلتستان کے خواتین و حضرات ہیں جو گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں جو راولپنڈی اسلام آباد ہی میں مقیم ہیں۔ جن میں سی پیک کی مشکلات اور فوائد دونوں اچھی طرح نشاندی کر سکتے ہیں۔
اس وقت سی پیک میں اتنی بھاری سرمایہ کاری کے باوجود گلگت سکردو روڈ کے پی سی ون میں موجود ٹینلز کو مبینہ طور پر خاموشی سے ختم کرنے پر بھی وہاں کے لوگوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔ اس طرح گلگت بلتستان کے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اس اقتصادی رہدای گلگت بلتستان سے گزرنے کے باوجود وہاں پر ابھی تک کوئی اقتصادی زون کیوں نہیں بنایا گیا ہے؟ سوست خجنرت ڈائی پورٹ کو ختم کر حویلیاں منتقل کرنے کی خبریں بھی ماضی میں میڈیا میں آتی رہی ہیں لوگ اس کی حقیقت کے بارئے میں جاننا چاہتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگوں میں سی پیک کے حوالے سے اس طرح کے درجنوں سوالات ہیں جن کا تسلی بخش جواب آنا باقی ہے۔
اسلام آباد میں سی پیک مشکلات اور مواقع کے عنوان سے اہم سمینار کا انعقاد، گلگت بلتستان نمائندگی سے محروم.
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا